ads 1

Thursday, September 6, 2018

RAaheHaqq Official Social Media Accounts

#YouTube #Dailymotion #Facebook #Twitter #instagram
#follow #like #share a and #subscribe

Subscribe RaaheHaqq's Official YouTube Channel :
https://goo.gl/tuwauy

visit our #blog: www.RaaheHaqqMedia.blogspot.com

#Subscribe #RaaheHaqq's Official #DailyMotion Channel :
https://www.dailymotion.com/raahehaqq

Join Us On #Instagram :
https://www.instagram.com/raahehaqq

Join Us On #Facebook :
https://www.facebook.com/raahehaqq

Join Us On #Facebook #group:
https://web.facebook.com/groups/RaaheHaqq/


Join Us On #Twitter :
https://www.twitter.com/raahehaqq

Follow us on #GooglePlus #page
https://goo.gl/YC8hiK

#raahehaqq #raah #haq #Haqq
#raahehaqq #raah #haq #Haqq راہِ حق راہ حق

Ghazi aamir abdur rehman cheema

کہا جاتا ہے یہ جنازہ لوگوں کی انگلیوں پر تھا کیونکہ لوگ اتنے بے تاب تھے اس جنازہ کو کندھا دینے کے لئے
اور قافلے در قافلے اس جنازہ میں شرکت کے لئے آرہے تھے حالانکہ ان کا اس میت سے کوئی خونی رشتہ نہیں تھا
آخر یہ مسلمان کون تھا
کیا آپ میں سے کوئی جانتا ہے
Ghazi Aamir Cheema|غازی عامر عبدالرحمن چیمہ رحمۃ اللہ علیہ

Wednesday, September 5, 2018

Qadiani kaafir hain

سوشل میڈیا پر جتنے بھی قادیانی، احمدی اورلاہوری ہیں اگر وہ اس تصویر کر دیکھ لیں تو کیا ہی حال ہوگا؟ گزارش ہے کہ ہر روز بلکہ ہر ایک گھنٹے بعد اس تصویر کر شئیر کریں اور باطل کے سینے میں پیوست خنجر نورانی کو مزید گہرا کردیں اور دنیا پر وضاحت کردیں کہ امام شاہ نورانی صدیقی کی فکر زندہ و جاوید ہے اور ہم قادیانی پیروکاروں اور ان کے یاروں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عزم رکھتے ہیں

Mareez e Mahabbat Muhabbat

رومی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں :” مریض ِ محبت کو اگر چارہ ساز سے نسبت قلبی نہ ہو تو سب چارہ سازی حجاب ہے“ صوفیاءکرام کی تعلیمات کے سلسلے میں ایک اہم تعلیم اس امر کا مشاہدہ دل میں بٹھا دینا ہے کہ انسان آخر ایک دن ﷲ کی طرف لوٹ جائے گا کیونکہ وہ ﷲ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف سے آیا ہے۔ روزمرہ زندگی کے معمولات اور مشغولات میں انسان اس قدر کھو جاتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے روزانہ کئی لوگوں کو مرتے دیکھتا ہے‘ جنازے میں شرکت کرتا ہے بلکہ اُن کو ان کے مقابر میں اتارنے کے لیے قبرستان میں موجود ہوتا ہے مگر اس کے دل میں یہ خیال بھولے سے بھی نہیں آتا کہ آخر ایک دن یہ پراسیس اس کے ساتھ بھی ہونا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مختلف النوع نفسانی آلائشوں سے اس کے دل پر زنگ کا ایک پردہ چڑھ جاتا ہے جو اسے حق اور حقیقت کی موجودگی کا احساس نہیں ہونے دیتا۔ شروع شروع میں یہ حجاب عارضی ہوتا ہے اور اس کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ کوئی صاحب ِ نظر اس شخص کی تربیت کر کے اسے دور کر سکتا ہے۔ بعد میں یہ پردہ پکا ہو جاتا ہے اور پھر قلب پر ایک ایسی مہر لگ جاتی ہے کہ جو انسان کو ہمیشہ کے لیے غفلت اور طاغوت میں داخل کر دیتی ہے۔ غفلت کے اس پردے کو چاک کرنے کے لیے پیرِ کامل اپنے مرید کو ایک خاص کیفیت کا مشاہدہ کراتا ہے جس کے ذریعے اس کا قلب زندہ اور بیدار ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت کو صوفیاء کرام "موتوا قبل ان تموتو" یعنی ”موت سے پہلے مر جانا“ کہتے ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ اور دقیق مسئلہ ہے جو عام اذہان کی سمجھ اور بس کی بات نہیں۔
جب اس سلسلے میں جناب ِ واصف علی واصف سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کی وضاحت میں مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ کی یہ حکایت اس طرح بیان فرمائی: ”ایک آدمی نے طوطا رکھا ہوا تھا۔ طوطا باتیں کرتا تھا۔ اس آدمی نے کہا کہ میں دور کے سفر پر جا رہا ہوں‘ وہاں سے کوئی چیز منگوانی ہو تو بتا۔ طوطے نے کہا کہ وہاں تو طوطوں کا جنگل ہے‘ وہاں ہمارے گُرو رہتے ہیں‘ ہمارے ساتھی رہتے ہیں‘ وہاں جانا اور گرو طوطے کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ایک غلام طوطا‘ پنجرے میں رہنے والا ‘ غلامی میں پابند‘ پابند ِ قفس ‘ آپ کے آزاد طوطوں کو سلام کرتا ہے۔ سوداگر وہاں پہنچا اور اس نے جا کر یہ پیغام دیا۔ اچانک جنگل میں پھڑ پھڑ کی آواز آئی‘ ایک طوطا گِرا‘ دوسرا گِرا اور پھر سارا جنگل ہی مر گیا۔ سوداگر بڑا حیران کہ یہ پیغام کیا تھا‘ قیامت ہی تھی۔ اداس ہو کے چلا آیا۔ واپسی پر طوطے نے پوچھا کہ کیا میرا سلام دیا تھا؟ اس نے کہا کہ بڑی اداس بات ہے‘ سلام تو میں نے پہنچا دیا مگر تیرا گرو مر گیا اور سارے چیلے بھی مر گئے۔ اتنا سننا تھا کہ وہ طوطا بھی مر گیا۔ سوداگر کو بڑا افسوس ہوا۔ اس نے مردہ طوطے کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ طوطا فوراً اُڑ گیا اور شاخ پر بیٹھ گیا۔ اس نے پوچھا یہ کیا؟ طوطے نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میں نے اپنے گُرو طوطے سے پوچھا تھا کہ پنجرے سے بچنے کا طریقہ بتا۔
اس نے کہا کہ مرنے سے پہلے مر جا۔
اور جب میں مرنے سے پہلے مر گیا تو پنجرے سے بچ گیا“

Ek aurat ne sharminda kar dia

®

ایک مصری عالم کا کہنا تھا کہ مجھے زندگی میں کسی نے لاجواب نہیں کیا سوائے ایک عورت کے جس کے ہاتھ میں ایک تھال تھا جو ایک کپڑے سے ڈھانپا ہوا تھا میں نے اس سے پوچھا تھال میں کیا چیز ہے

*وہ بولی اگر یہ بتانا ہوتا تو پھر ڈھانپنے کی کیا ضرورت تھی*

*پس اس نے مجھے شرمندہ کر ڈالا*

یہ ایک دن کا حکیمانہ قول نہیں بلکہ ساری زندگی کی دانائی کی بات ہے.

*کوئی بھی چیز چھپی ہو تو اس کے انکشاف کی کوشش نہ کرو.*

کسی بھی شخص کا دوسرا چہرہ تلاش کرنے کی کوشش نہ کریں خواہ آپ کو یقین ہو کہ وہ بُرا ہے یہی کافی ہے کہ اس نے تمہارا احترام کیا اور اپنا بہتر چہرہ تمہارے سامنے پیش کیا بس اسی پر اکتفا کرو

ہم میں سے ہر کسی کا ایک بُرا رخ ہوتا ہے جس کو ہم خود اپنے آپ سے بھی چھپاتے ہیں.

*اللہ تعالٰی دنیا و آخرت میں ہماری پردہ پوشی فرمائے*

ورنہ جتنے ہم گناہ کرتے ہیں اگر ہمیں ایک دوسرے کا پتہ چل جائے تو ہم ایک دوسرے کو دفن بھی نہ کریں

جتنے گناہ ہم کرتے ہیں اس سے ہزار گنا زیادہ کریم رب ان پر پردے فرماتا ہے

*کوشش کریں کہ کسی کا عیب اگر معلوم بھی ہو تو بھی بات نہ کریں*

آگے کہیں آپ کی وجہ سے اسے شرمندگی ہوئی تو کل قیامت کے دن اللہ پوچھ لے گا کہ جب میں اپنے بندے کی پردہ پوشی کرتا ہوں تو تم نے کیوں پردہ فاش کیا ؟

بشکریہ۔ جنابِ کوئلِ مدینہ محمد شکیل عطاری۔ کراچی

Nafraten mittaao

ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﻣﮑﺎﻥ ﺧﺮﯾﺪﺍ. ﺍس میں پھلوں کا ایک باغ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ.
ﭘﮍﻭﺱ ﮐﺎ ﻣﮑﺎﻥ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﮍﻭﺱ ﮐﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﺑﮭﺮ ﻛﻮﮌﺍ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ.

ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﻟﯽ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﭘﮭﻞ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﯽ ﮔﮭﻨﭩﯽ ﺑﺠﺎﺋﯽ. ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺻﺒﺢ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻟﮍﻧﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ. ﻟﮩﺬﺍ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍ ﺑﮭﻼ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻟﮕﮯ.
ﻣﮕﺮ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ، ﻭﮦ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﮔﺌﮯ.ﺭﺳﯿﻠﯽ ﺗﺎﺯﮦ ﭘﮭﻞ ﮐﯽ ﺑﮭﺮﯼ ﺑﺎﻟﭩﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻟﺌﮯ ﻧﯿﺎ ﭘﮍﻭﺳﯽ، ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ.

ﺳﺐ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺗﮭﮯ !

پڑوسی نے کہا.... ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺗﮭﺎ، ﻭﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻻ ﺳﮑﺎ... ﺳﭻ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﻮ ﮨﮯ، ﻭﮨﯽ ﻭﮦ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ....!

ﺫﺭﺍ ﺳﻮﭼﯿﮟ، ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ..؟

دانا بزرگ کہاکرتے ہینکہ پتر
جانوروں کو ذبح کرنا سنت ابراھیم علیہ السلام
اور
‏نفرتوں کو ذبح کرنا سنتِ مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم ھے ۔

Faateh kaun

فاتح کون ؟۔۔۔۔۔تحریر :محمد اسمٰعیل بدایونی
معرکہ  ہالینڈ کا فاتح کون ہے ؟ سوال کیا اٹھا لوگ پلکیں جھپکانا بھول گئے ۔۔۔۔۔
ہر شخص چاہتا تھا اس کی  پسندیدہ  فرد یا جماعت  کو فاتح کا تاج پہنا دیا جائے ۔۔۔۔
ملعون وائلڈار جیتا یا ہار گیا ؟ سوال دوبارہ پوچھا گیا ۔۔۔۔۔
سوال پر سوال پوچھ رہے ہو ،تم پو چھنا کیا چاہتے ہو ؟  مجمع میں سے ایک آواز بلند ہوئی
سوال بہت سادہ ہے ۔۔۔۔۔۔
یقینا ًہار گیا   اسے اپنا اعلان واپس لینا پڑا اور  اس کا کریڈٹ  ہم کو جاتا ہے ۔۔۔۔ نہیں ہم کو جاتا ہے ۔۔۔۔ارے نہیں بھئی ہم کو جاتا ہے  مجمع میں آوازیں بلند ہو نے لگیں ۔۔۔
تم نے اس ملعون کا ٹوئیٹ پڑھا ؟ اس کا لب لباب  کیا ہے ؟
• Islam is showed it is true face once again with death threats, fatwas and violence
• میرے سوا اور بھی کئی لوگوں کی جان کو خطرہ ہے ان مسلمانوں سے
• مسلم انتہا پسند پورے ہالینڈ کو ٹارگیٹ کررہے ہیں
• بے گناہ لوگوں کی موت  کے ذمہ دار یہ مسلمان ہوں گے
• اسلام کے عدم برداشت اور تشدد پسند ہونے کا دعویٰ ایک بار پھر ثابت ہو چکا
• اسلام کے خلاف جدو جہد جاری رکھنے کا عزم
نتائج کیا برآمد ہوں گے ؟
وہی جو صدیوں سے  تحریکِ استشراق کا مقصد ہے ۔۔۔۔لوگوں کو اسلام کے قریب نہ جانے دیا  جائے ۔۔۔۔
اے درد مند مسلمانو!
ابھی فتح کہاں ملی ؟۔۔۔۔۔ابھی منزل کہاں آئی ؟۔۔۔۔
ابھی تو تم میدان  میں ہو کہ "فاتح کون؟" کی بحث نے تمہیں جکڑ لیا ۔۔۔۔۔
تمہیں  ابھی ایسے  کئی   علمی وفود بھیجنے ہیں اہلِ مغرب کے پاس جو انہیں اسلام کا حقیقی  چہرہ دکھا سکیں ۔۔۔۔۔استشراق نے جو دھول برسوں اڑائی ہے اس گرد کو ہٹا سکیں ۔۔۔۔۔
سرکار ی و غیر سرکاری سطح پر ان وفود کا جانا لازم ہے ۔۔۔۔
تحریک استشراق  نے جن سوالات کو اٹھا کر یورپ کے نوجوان  اذہان کو اسلام دشمنی   سے آلودہ کیا ہے، علماء حق پر  لازم ہے کہ  وہ ان کے جوابات دیں ۔۔۔۔
جس طرح  مستشرقین نے قرآن و صاحب قرآن ﷺاوراسلام پر   فکری یلغار کرتے ہوئے کتابوں اور تحریری مقالوں کے انبار لگا دئیے ہیں  اسی طرح مسلم اسکالرز ان کے جوابات تحریر کریں ۔۔۔۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن  ایسے تمام اسلامک اسکالرز کو  جنہوں نے اس  شعبے  میں گراں قدر خدمات انجام دی ہوں    ان کو سراہا جائے مگر افسوس ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔
قومی و بین الاقوامی سطح پر ایسی کانفرنسز اور سیمینارز کا  انعقاد  جس سے  تحریک استشراق کو  قلمی میدان میں عبرتناک شکست دی جا سکے   اور اسلام کے روشن اور تابندہ چہرے کو مکمل دکھایا جا سکے ۔
وہ تمام  کالی بھیڑیں جو بنام اساتذہ  جامعات اور کالجز میں نسل نو کے اذہان میں اسلام  سے متعلق شکوک و شبہات کے بیج بو رہے ہیں ان کے خلاف  قانونی کاروائی  کی جائے ۔۔۔۔
مستشرقین کو اس منفی  و غلیظ  پرو پیگنڈے  سے روکنے کا ایک ذریعہ یہ  بھی کہ اسلام کی ترویج و اشاعت  ساری دنیا میں سرکار ی و غیر سرکاری سطح پر تیز سے تیز تر کی جائے ساتھ ہی یہ یاد رکھا جائے   تبلیغ  ِ اسلام  کا مزاج یہ  ہے کہ مسلمان کی زبان سے زیادہ مسلمان کے  عمل سے  پھیلتا ہے ۔۔۔۔۔۔
فاتح کون ؟ کا جواب ابھی بہت دور ہے کیونکہ جنگ ابھی جاری ہے  ۔۔۔۔
https://www.facebook.com/IslamicResearchSociety/

Tuesday, September 4, 2018

maulana room masnavi rumi

قلبی بصیرت


ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ، ﻟﯿﻠﯽٰ ﮐﻮﻥ؟
ﺑﺎﺩﺷﺎﻩِ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺼﺎﺣﺒﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ
ﺗﻬﺎ۔ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺼﺎﺣﺒﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ
ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻋﺎﻟﯽ
ﺟﺎﻩ !
ﯾﮧ ﺟﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﯼ ﮨﮯ
، ﯾﮧ ﻟﯿﻠﯽٰ ﺗﮭﯽ۔
ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ، ﻟﯿﻠﯽٰ ﮐﻮﻥ؟
ﺍﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ! ﻟﯿﻠﯽٰ ﻭﻩ ﻋﻮﺭﺕ ﮨﮯ ﺟﺲ
ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻮﺵ ﻭ ﺣﻮﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﯿﮕﺎﻧﮧ
ﮨﻮﺍ ﭘﮭﺮﺗﺎ
ﯾﮯ ، ﺟﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﭘﮑﺎﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﻮ ﺗﺠﺴﺲ ﮨﻮﺍ ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ،
ﻟﯿﻠﯽٰ ﮐﻮ ﺣﺎﺿﺮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ، ﺁﺧﺮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮐﮧ
ﻭﻩ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺣﺴﯿﻨﮧ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ
ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ
ﺑﯿﮕﺎﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻟﯿﻠﯽٰ ﮐﻮ ﺣﺎﺿﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ،
ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻟﯿﻠﯽٰ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﺎﻩ ﻓﺎﻡ ، ﻋﺎﻡ ﺳﯽ
ﻋﻮﺭﺕ ﮨﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺷﺎﯾﺪ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻧﮕﺎﻩ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﮐﯽ
ﺑﮭﯽ
ﺧﻮﺍﻫﺶ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﮯ۔
ﻭﻩ ﻟﯿﻠﯽٰ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮﺍ ،
ﺍﮮ ﻟﯿﻠﯽٰ ! ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﺗﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﺹ ﺑﺎﺕ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ
ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ ، ﭘﮭﺮ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﺗﯿﺮﯼ ﺧﺎﻃﺮ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮ
ﮔﯿﺎ؟
ﻟﯿﻠﯽٰ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﯽ ،
" ﺟﺐ ﺗُﻮ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻫﮯ ، ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ ﻟﯿﻠﯽٰ
ﮐﻮﻥ ﻫﮯ؟
ﺍﮔﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺴﻦ ﻭ ﺟﻤﺎﻝ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ
ﻣﺠﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ، ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ
ﮐﯽ ﺳﺐ
ﺳﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﻭﮞ ﮔﯽ۔ "
۔
۔
ﻟﮩٰﺬﺍ
ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻟﯿﻠﯽٰ ﮐﺎ ﺣﺴﻦ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﮐﯽ
ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﮨﯿﮟ، ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ
ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ
ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ۔
ﺍﮔﺮ ﺍﺑﻮ ﺟﮩﻞ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﯿﺴﺎ
ﮨﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﮔﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ
ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ
ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺷﻔﯿﻊ ﺍﻻﻣﻢ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺧﻮﺑﯿﻮﮞ
ﻭﺍﻻ ﻧﻈﺮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ۔

ملخصاً از ﻣﺜﻨﻮﯼ ﺭﻭﻣﯽ ،ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻼﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺭﻭﻣﯽ ﺭﺣﻤﺘﻪ ﺍﻟﻠﻪ
ﻋﻠﯿﮧ

Monday, September 3, 2018

Gharoor aur Takabbur aur Akkar

#ہرکام_کاعلاج_ایک_جیسانہیں_ہوتا

لوھار کی بند دکان میں کہیں سے گهومتا پهرتا ایک سانپ گهس آیا.
یہاں سانپ کی دلچسپی کی کوئی چیز نہیں تهی۔اس کا جسم وہاں پڑی ایک آری سے ٹکرا کر بہت معمولی سا زخمی ہو گیا. گهبراہٹ میں سانپ  نے پلٹ کر آری  پر پوری قوت سے ڈنگ مارا. سانپ کے منہ سے خون بہنا شروع ہو گیا. اگلی بار سانپ  نے اپنی سوچ کے مطابق آری کے گرد لپٹ کر، اسے جکڑ کر اور دم گهونٹ کر مارنے کی پوری کوشش کر ڈالی. دوسرے دن جب دکاندار نے ورکشاپ کهولی تو ایک سانپ کو آری کے گرد لپٹے مردہ پایا جو کسی اور وجہ سے نہیں محض اپنی طیش اور غصے کی بهینٹ چڑھ گیا تها.
سبق۔۔
بعض اوقات غصے میں ہم دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے بعد ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم نے اپنے آپ کا زیادہ نقصان کیا ہے.
اچهی زندگی کیلئے بعض اوقات ہمیں

کچھ چیزوں کو
کچھ لوگوں کو
کچھ حوادث کو
کچھ کاموں کو
کچھ باتوں کو
نظر انداز کرنا چاہیئے.

اپنے آپ کو ذہانت کے ساتھ نظر انداز کرنے کا عادی بنائیے، ضروری نہیں کہ ہم ہر عمل کا ایک رد عمل دکهائیں. ہمارے کچھ رد عمل ہمیں محض نقصان ہی نہیں دیں گے بلکہ ہو سکتا ہے کہ ہماری جان بهی لے لیں.

سب سے بڑی قوت۔۔۔قوتِ برداشت ہے

حضرت علی (رض) کا فرمان ھے کہ "صبر ایسی سواری ہے جو اپنے سوار کو گرنے نہیں دیتی
نہ کسی کے قدموں میں۔۔۔ نہ کسی کی نظروں میں۔"
#razavi

Durood e Paak


https://web.facebook.com/253415658647214/photos/a.253416705313776/253602851961828/?type=3&theater

Allama Khadim Hussain Rizvi 30-08-2018 Islamabad


Allama Khadim Hussain Rizvi ne Dharna ke ikhtitaam ep kya farmaaya
aap bhi sune aur share karen

MASAAIL KA HAL

مسائل کا شکوہ کرنا آسان یا اُنکا حل آسان؟

کہتے ہیں کہ ایک بار چین کے کسی حاکم نے ایک بڑی گزرگاہ کے بیچوں بیچ ایک چٹانی پتھر ایسے رکھوا دیا کہ گزرگاہ  بند ہو کر رہ گئی۔ اپنے ایک پہریدار کو نزدیک ہی ایک درخت کے پیچھےچھپا کر بٹھا دیا تاکہ وہ  آتے جاتے لوگوں کے ردِ عمل سُنے اور اُسے آگاہ کرے۔ 
اتفاق سے جس پہلے شخص کا وہاں سے گزر ہوا وہ شہر کا مشہور تاجر تھا جس نے بہت ہی نفرت اور حقارت سے سڑک کے بیچوں بیچ رکھی اس چٹان کو دیکھا
 یہ جانے بغیر کہ یہ چٹان تو حاکم وقت نے ہی رکھوائی تھی۔ اُس نے ہر اُس شخص کو بے نقط اور بے حساب باتیں سنائیں جو اس حرکت کا ذمہ دار  ہو سکتا تھا۔
چٹان کے ارد گرد ایک دو چکر لگائے اور چیختے ڈھاڑتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی جا کر اعلیٰ حکام سے اس حرکت کی شکایت کرے گا اور جو کوئی بھی اس حرکت کا ذمہ دار ہوگا اُسے سزا دلوائے بغیر آرام سے نہیں بیٹھے گا۔

اس کے بعد وہاں سے تعمیراتی کام کرنے والے ایک ٹھیکیدار کا گزر ہوا ۔ اُس کا ردِ عمل بھی اُس سے پہلے گزرنے والے تاجر سے مختلف تو نہیں تھا مگر اُس کی باتوں میں ویسی شدت اور گھن گرج نہیں تھی جیسی پہلے والا تاجر دکھا کر گیا تھا۔
آخر ان دونوں کی حیثیت اور مرتبے میں نمایاں فرق بھی توتھا!
اس کے بعد وہاں سے تین ایسے دوستوں کا گزر ہوا جو ابھی تک زندگی میں اپنی ذاتی پہچان نہیں بنا پائے تھے اور کام کاج کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ انہوں نے چٹان کے پاس رک کر سڑک کے بیچوں بیچ ایسی حرکت کرنے والے کو جاہل، بیہودہ  اور گھٹیا انسان سے تشبیہ دی،  قہقہے لگاتے اور ہنستے ہوئے اپنے گھروں کو چل دیئے۔

اس چٹان کو سڑک پر رکھے دو دن گزر گئے تھے  کہ وہاں سے ایک مفلوک الحال اور غریب کسان کا گزر ہوا۔ کوئی شکوہ کیئے بغیر جو بات اُس کے دل میں آئی وہ  وہاں  سے گزرنے والوں کی تکلیف کا احساس تھا اور وہ یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح  یہ پتھر وہاں سے ہٹا دیا جائے۔ اُس نے وہاں سے گزرنے والے راہگیروں کو  دوسرے لوگوں کی مشکلات سے آگاہ کیا اور انہیں جمع ہو کر وہاں سے پتھر ہٹوانے کیلئے مدد کی درخواست کی۔ اور بہت سے لوگوں نے مل کر زور لگاکرچٹان نما پتھر وہاں سے ہٹا دیا۔ 
اور جیسے ہی یہ چٹان وہاں سے ہٹی تو نیچے سے ایک چھوٹا سا گڑھا کھود کر اُس میں رکھی ہوئی ایک صندوقچی نظر آئی جسے کسان نے کھول کر دیکھا تو اُس میں سونے کا ایک ٹکڑا اور
خط رکھا  تھا جس میں لکھا ہوا تھا کہ:
 حاکم وقت کی طرف سے اس چٹان کو سڑک کے درمیان سے ہٹانے والے شخص کے نام۔
جس کی مثبت اور عملی سوچ نے مسائل پر شکایت کرنے کی بجائے اُس کا حل نکالنا زیادہ بہتر جانا۔

کیا خیال ہے ؟
ھم بھی اپنے گردونواح میں نظر دوڑا کر دیکھ لیں، کتنے ایسے مسائل ہیں جن کے حل ہم آسانی سے پیدا کر سکتے ہیں!

محمدقمرالدین نورانی جِلاء

DAATA ALI HAJVERI

ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺷﺨص ﭘﺮ ﺗﻌﺠﺐ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺟﻨﮕﻞ ﻭ ﺻﺤﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﺎﺑﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻃﮯ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺍﻭﺭ ﺣﺮﻡ ﺗﮏ ﺗﻮ ﭘﮩﻨﭽﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺒﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﮨﯿﮟ -ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﮐﯽ ﻭﺍﺩﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻃﮯ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻮﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﮨﯿﮟ- 

“ﮐﺸﻒ ﺍﻟﻤﺤﺠﻮﺏ- ﺩﺍﺗﺎ ﮔﻨﺞ ﺑﺨﺶ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﮨﺠﻮﯾﺮﯼ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ

ebaadat guzaar

ﻧﯿﮏ ﮨﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﮨﮯﺍﻭﺭﻧﻔﺲ ﭘﮧ ﻗﺎﺑﻮ ﮨﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭﺑﺎﺕ!

ﺑﻈﺎﮨﺮ ﯾﮧ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﺟﻤﻠﮧ
ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮩﺖ ﮔﮩﺮﺍئی لیئے
ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮯ۔
کیونکہ نیک انسان کسی وقت براٸ کر سکتا ھے جبکہ جو اپنے نفس پہ قابو پا لے وہ براٸ کیطرف نہیں جاتا بلکہ براٸ خود اس شخص سے دور بھاگتی ھے اور نیکی آگے آتی ھے۔۔

ﻣﺜﻼً

ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﺰﺍﺭ ﺑﻨﺪﮦﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﺎﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﮐﺮﮮ

 ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ
ﻣﻄﻠﺐ ﻧﻔﺲ ﭘﮧ ﻗﺎﺑﻮ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﻟﻤﺒﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽﺟﮭﻮﭦ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺭﮐﮯ
ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﺮ ﮐﮯﻓﻮﻥ ﭘﮧ ﻏﯿﺒﺖ ﺷﺮﻭﻉ
۔
ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ
ﺁﯾﺎﺕ
 ﺳﮯ، ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﻧﺎﭺ ﮔﺎﻧﮯ ﭘﮧ.

ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﺮ ﭘﮭﯿﺮ۔
ﺁﮔﮯ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ
ﺳﻮﭼﯿﮟ۔ ۔۔۔۔

ﺍﻟﻠﻪ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﭘﮧ
ﻗﺎﺑﻮ ﺩﮮ ﺩﮮ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ لیئے
ﻧﺒﯽ کریم ﷺ نے ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭﯼ 
ﺩُﻋﺎئیں ﺳﮑﮭﺎئی ﮨﯿﮟ۔ 
ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﯾﮧ ﮨﮯ۔

ﺍَﻟﻠّٰﻬُﻢَّ ﺍٰﺕِ ﻧَﻔْﺴِﯽْ ﺗَﻘْﻮَﺍﮬَﺎ
ﻭَﺯَﮐِّﮭَﺎ ﺍَﻧْﺖَ ﺧَﻴْﺮُﻣَﻦْ ﺯَﮐَّﺎﮬَﺎ
ﺍَﻧْﺖَ ﻭَﻟِﻴُّﻬﺎ ﻭَ ﻣَﻮْﻟَﺎﮬَﺎ
( ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ، 
ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺬﮐﺮ ﻭﺍﻟﺪّﻋﺎﺀ 
ﻭﺍﻟﺘﻮﺑﺔ ﻭﺍﻻﺳﺘﻐﻔﺎﺭ، 
ﺑﺎﺏ ﻓﯽ ﺍﻻٔﺩﻋﯿﺔ 6906:)

ﺍﮮ ﷲ! ﻣﯿﺮﮮ ﻧﻔﺲ ﮐﻮ
ﺍﺳﮑﺎ ﺗﻘﻮٰﯼ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﺎﮎ ﺭﮐﮫ، ﺗﻮ ﮨﯽ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﭘﺎﮎ ﮐﺮﻧﮯ
ﻭﺍﻻ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻭﻟﯽ
ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻟﯽٰ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﺩﻋﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ
ﻧﻔﺲ ﮐﺎ ﻭﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻻ
ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﮨﮯ۔

ﺫﺭﺍ ﺳﻮچیئے، ﺟﺲ ﺷﺨﺺﮐﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﺎ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ
ﺟﺎﺋﮯ، ﮐﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺑﮩﮑﮯ ﮔﺎ؟
یقیناََ اسے کبھی بہکنے نہیں دے گا۔
نیکی ضرور کریں لیکن ایسی نیکی جو تزکیہ نفس کیطرف ماٸل کرے تاکہ براٸ کو مستقلاََ ختم کیا جا سکے۔۔۔

Baghdad ka Bazaar

بغداد کے بازار میں ایک حلوائی صبح صبح اپنی دکان سجا رہا تھا کہ ایک فقیر آنکلا تو دکاندار نے کہا کہ باباجی آؤ بیٹھو

فقیر بیٹھ گیا تو حلوائی نے گرم گرم دودھ فقیر کو پیش کیا. فقیر نے دودھ پی کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس حلوائی کو کہا کہ بھائی تیرا شکریہ اور یہ کہہ کرفقیرچل پڑا۔

بازار میں ایک فاحشہ عورت اپنے دوست کے ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھ کر موسم کا لطف لے رہی تھی۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی، بازار میں کیچڑ تھا، فقیر اپنی موج میں بازار سے گزر رہا تھا کہ فقیر کے چلنے سے ایک چھینٹا اڑا اورفاحشہ عورت کے لباس پر گر گیا۔ جب یہ منظر فاحشہ عورت کے دوست نے دیکھا تو اسے بہت غصہ آیا۔ وہ اٹھا اور فقیر کے منہ پرتھپڑ مارا اور کہا کہ فقیر بنے پھرتے ہو، چلنے پھرنے کی تمیز نہیں؟

فقیر نے ہنس کر آسمان کی طرف دیکھا اور کہا
مالک تو بھی بڑا بے نیاز ہے، کہیں سے دودھ پلواتا ہے اور کہیں سے تھپڑ مرواتا ہے.. یہ کہہ کر فقیر آگے چل پڑا،

فاحشہ عورت چھت پر جارہی ہوتی ہے تو اس کا پاؤں پھسلتا ہے اور زمین پر سر کے بل گر جاتی ہے، اس کو ایسی شدید چوٹ لگتی ہے کہ موقع پر ہی فوت ہوجاتی ہے۔

شور مچ گیا کہ فقیر نے آسمان کی طرف منہ کر کے بدعا دی تھی، جس کی وجہ سے یہ قیمتی جان چلی گئی

فقیر ابھی بازار کے دوسرے کونے تک نہیں پہنچ پائے تھے کہ لوگوں نے فقیر کو پکڑ لیا اور کہا کہ بڑے فقیر بنے پھرتے ہو، حوصلہ بھی نہیں رکھتے ہو

فقیرنے کہا کہ کیا ہوا میاں؟ لوگوں نے کہا کہ تم نے بددعا دی اور عورت کی جان چلی گئی

فقیرنے کہا کہ واللہ میں نے تو کوئی بددعا نہیں دی تو لوگوں نے ضد کی اور کہا کہ نہیں تیری بددعا کا کیا دھرا ہے۔

جب لوگوں نے ضد کی تو فقیر نے کہا کہ اصل بات پوچھتے ہو تو میں نے کوئی بددعا نہیں کی، یہ یاروں یاروں کی لڑائی ہے.

لوگوں نے کہا کہ وہ کیا؟ فقیر نے کہا کہ جب میں گزر رہا تھا اور میرے پاؤں سے چھینٹا اڑا اور اس عورت کے لباس پر پڑا تو اس کے یار کو غصہ آیا، اس نے مجھے مارا تو پھر میرے یار کو بھی غصہ آگیا..

smart phones

آج بابا جی سے ملاقات ہوئی تو خلاف توقع ان کے ہاتھ میں سمارٹ فون تھا اور وہ وٹس ایپ پہ مسیج لکھ رہے تھے۔ یہ صورتحال میرے لئے نہ صرف نئی تھی بلکہ حیران کن بھی۔ حیران ہوکر پوچھا کہ باباجی لگتا ہے تبدیلی واقعی آگئی ہے۔ اس فضول چیز سے ہم پیچھا چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن چھڑا نہیں پا رہے اور ایک آپ ہیں کہ اس عمر میں نیا شوق پال لیا۔ بابا جی مسکرائے اور کہنے لگے “یہ اتنی بھی بری چیز نہیں۔ میں کافی شاکی تھا اس کے بارے میں لیکن آج اس نے وہ نکتہ بڑی آسانی سے سمجھا دیا جو میں برسوں نہیں سمجھ پایا تھا۔”
میری حیرت میں اضافہ ہوگیا۔ ایسا بھلا کونسا نکتہ ہوسکتا ہے جو باباجی کو سمارٹ فون سے سمجھ آیا۔ درخواست کی کہ تفصیلات بیان فرمائیں تاکہ ہم بھی مستفید ہوسکیں۔
باباجی بولے کہ میں دس بارہ دن سے دوستوں کے ساتھ وٹس ایپ پہ رابطے میں ہوں۔ جو دوست ایک دو دن کیلئے رابطہ نہیں کرتے ان کے نام اور پیغامات بہت نیچے چلے جاتے ہیں اتنے نیچے کہ میرا ہاتھ تھک جاتا ہے سکرول کرتے کرتے۔ اور جو رابطے میں رہتا ہے وہ لسٹ میں سب سے اوپر رہتا ہے۔ عرض کیا کہ ایسا ہی ہوتا ہے اس میں کونسی بڑی بات ہے۔ یہ تو ہمیں سالوں پہلے پتا تھا۔
بابا جی کہنے لگے، تم نے میری بات پہ غور نہیں کیا۔ ہم سب کا ایک رب ہے۔ جب ہم اسکے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اسکو یاد کرتے ہیں اس سے مانگتے رہتے ہیں تو اس کے پاس موجود لسٹ میں ہمارا نام اوپر ہی اوپر رہتا ہے۔ لیکن جیسے ہی ہم اس سے غافل ہوجاتے ہیں لسٹ میں ہمارا نام بہت نیچے چلا جاتا ہے۔ بس میں یہی نکتہ سمجھا ہوں کہ اگر اس کی لسٹ میں نام اوپر رکھنا ہے تو وقتا” فوقتا” اسے کسی نہ کسی طرح یاد کرتے رہنا چاہئے۔

Durood e Paak

حضرتِ سیِّدُنا شَیْخ احمد بن ثابِت 

مَغْرِبی علیہ رحمۃُ اللّٰهِ القوی فرماتے ہیں: 

میں قِبْلہ رُخ بیٹھ کر دُرُود پاک کے موضوع پر مضمون ترتیب دے رہا تھا 

اچانک مجھ پر غُنُودَگی طاری ہوئی
 اور میری آنکھ لگ گئی۔ 

میں نے خواب میں اللّٰه تعالیٰ کے مُقَرَّب فِرِشْتَوں 

حضرتِ سیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلام، 
حضرتِ سیِّدُنا میکائیل عَلَیْہِ السَّلام، 
حضرتِ سیِّدُنا اِسرافیل عَلَیْہِ السَّلام

 اورحضرتِ سیِّدُنا عِزْرائیل 
 عَلَیْہِ السَّلام کی زِیارَت کی۔ 
 (تین مقرب فرشتوں سے گفتگو کا ذکر کرنے کے بعد)

 شیخ احمد بن ثابت 
 رَحمَۃُ اللّٰه تعالٰی علیہ فرماتے ہیں 

میں نے حضرتِ سیِّدُنا عِزْرائیل عَلَیْہِ السَّلام 
سے عَرْض کی 

میں اللّٰه عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے پِیارے حبیب 
صلَّی اللّٰه تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم 
کا واسِطہ دے کر اِلْتِجا کرتا ہوں
 کہ آپ میری جان نکالتے وَقْت مجھ پر نَرْمی فرمائیں۔

 تو حضرتِ سیِّدُنا عِزْرائیل
  عَلَیْہِ السَّلام نے فرمایا: 

رسولِ اَکرم صلَّی اللّٰه تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر کثرت سے دُرُود پاک پڑھا کرو*

(سعادۃ الدارین # صفحه : 124 ملخصاً )

آس ہے کوئی نہ پاس، ایک تمہاری ہے آس
بس ہے یہی آسرا تم پہ کروڑوں دُرود

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰهُ تعالٰی علٰی محمَّد

sulook aur insaan