#محمد_ہمارے_بڑی_شان_والے
#صلی_اللہ_علیہ_وآلہ_وسلم
Quran o Hadith Tauheed o Sunnat Zikre Rasool Zikr e AhleBait Zikre e Sahaba Islamic Information Videos Articles News Muslim Islam
ads 1
Wednesday, August 29, 2018
Tuesday, August 28, 2018
MUSLIM ... .?
آپ انصافی ہیں ، نون لیگی ، پیپلز پارٹی کے یا پھرایم ایم اے, ایکیو ایم یا ٹی ایل پی کے دیوانے ، آپ ہیں تومسلمان نا ؟
سو آج اللہ کے نبی ﷺ کی محبت کا دن ہے
20 ستمبر سے پہلے پہلے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے یہ ویڈیو عام کردیں …
ہالینڈ اور نبی ﷺ کے گستاخوں کے سوشل اکاؤنٹ بلاک کروانے میں ہماری مدد کریں …
اس ویڈیو میں دی گئی ہدایات پہ خود بھو عمل کریں اور دوسروں کو بھی سکھائیں تاکہ ذیادہ سے اکاؤنٹ بلاک ہوں اور مقابلے منعقد نہ کرسکیں
دیکھتے ہیں نا آج آپ کی محبت ......اس پیغام کو فیس بک کی ہر ہر وال پر ہونا چاہئے ، ہر بندے کو بھیجیں ....... ہر گروپ اور وال پر شیر کریں پلیز پلیز پلیز
منصور سلیم
MUSLIM ... .?
آپ انصافی ہیں ، نون لیگی ، پیپلز پارٹی کے یا پھرایم ایم اے, ایکیو ایم یا ٹی ایل پی کے دیوانے ، آپ ہیں تومسلمان نا ؟
سو آج اللہ کے نبی ﷺ کی محبت کا دن ہے
20 ستمبر سے پہلے پہلے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے یہ ویڈیو عام کردیں …
ہالینڈ اور نبی ﷺ کے گستاخوں کے سوشل اکاؤنٹ بلاک کروانے میں ہماری مدد کریں …
اس ویڈیو میں دی گئی ہدایات پہ خود بھو عمل کریں اور دوسروں کو بھی سکھائیں تاکہ ذیادہ سے اکاؤنٹ بلاک ہوں اور مقابلے منعقد نہ کرسکیں
دیکھتے ہیں نا آج آپ کی محبت ......اس پیغام کو فیس بک کی ہر ہر وال پر ہونا چاہئے ، ہر بندے کو بھیجیں ....... ہر گروپ اور وال پر شیر کریں پلیز پلیز پلیز
منصور سلیم
WARNING HOLLAND
خطرناک سازش
ﺁﺝ ﮐﻞ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮔﺴﺘﺎﺧﺎﻧﮧ ﻣﻮﺍﺩ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﻔﺎﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﭘﮭﯿﻼ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ طریقہ کار یہ ہےکہ
ﮐﻔﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﮔﺴﺘﺎﺧﺎﻧﮧ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻟﮑﮫ ﺩیتے ہیں ﮐﮧ "ﺍﺱ ﮐﻮ ﻟﻌﻨﺖ بھیج ﮐﺮ ﺁﮔﮯ ﺷﯿﺌﺮ ﮐﺮﯾﮟ"۔ﺍﺏ ﮐﻔﺎﺭﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺧﺘﻢ اور مسلمانوں کا شروع ہوجاتا ہے اسکے بعد ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻟﻌﻨﺖ بھیجنے ﮐﮯ ﭼﮑﺮ میں ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮتے ہیں ﮐﮧ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺗﮏ ﯾﮧ ﮔﺴﺘﺎﺧﺎﻧﮧ ﻣﻮﺍﺩ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎتا ہے۔
ﺍﻥ ﻟﻌﻨﺘﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﻌﻨﺖ کرنے سے کیا ﻓﺮﻕ ﭘﮍتا البتہ گستاخانہ مواد کی دنیا بھر میں تشہیر ہوجاتی ہے اور کفار کا مقصد پورا ہوجاتا ہے۔
ﮬﻤﯿﮟ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻮﺍﺩ آگے مزید share کرنے کے بجائے اسے HIDE یا DELETE کردیں۔
ﮔﺴﺘﺎﺧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ....
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ....
1.ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﺍﺑﯽ ﺑﻦ ﺧﻠﻒ "
ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳
ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
2..ﮔﺴﺘﺎﺥِ رسول ﷺ
" ﺑﺸﺮ ﻣﻨﺎﻓﻖ "
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ رضی اللہ عنہ
ﮐﮯﮨﺎﺗﮭﻮﮞ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
3..ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
ﺍﺭﻭﮦ ( ﺍﺑﻮ ﻟﮩﺐ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ )
ﮐﺎ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻧﮯ ﮔﻼ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﺩﯾﺎ۔
4..ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﺍﺑﻮ ﺟﮩﻞ " ﺩﻭ ﻧﻨﮭﮯ ﻣﺠﺎﮨﺪﻭﮞ
ﻣﻌﺎذ ﻭ ﻣﻌﻮﺫ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
رضی اللہ عنہ
5..ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﺍﻣﯿﮧ ﺑﻦ ﺧﻠﻒ "
ﺣﻀﺮﺕ ﺑﻼﻝ رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۲ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
6..ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﻧﺼﺮ ﺑﻦ ﺣﺎﺭﺙ "
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ۲ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
7..ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﻋﺼﻤﺎ ( ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻋﻮﺭﺕ )"
1 ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﯿﺮ ﺑﻦ ﻋﺪﯼ
رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۲ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺋﯽ
8..ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﺍﺑﻮ ﻋﻔﮏ " ﺣﻀﺮﺕ ﺳﺎﻟﻢ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ
رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
9..ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﮐﻌﺐ ﺑﻦ ﺍﺷﺮﻑ " ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻧﺎﺋﻠﮧ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
10..ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ
" ﺍﺑﻮ ﺭﺍﻓﻊ " ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ
رضی اللہ عنہ
ﮐﮯﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
11..ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﺍﺑﻮﻋﺰﮦ ﺟﻤﻊ " ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺻﻢ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ
رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
12..ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﺣﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﻃﻼﻝ "
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۸ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
13..ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﻋﻘﺒﮧ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻣﻌﯿﻂ "
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ۲ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
14..ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﺍﺑﻦ ﺧﻄﻞ "
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﺑﺮﺯﮦ رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۸ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
15..ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﺣﻮﯾﺮﺙ ﻧﻘﯿﺪ "
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۸ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
16..ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﻗﺮﯾﺒﮧ ( ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺑﺎﻧﺪﯼ )"
ﻓﺘﺢ ﻣﮑﮧ ﮐﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺋﯽ۔
17...ایک ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺷﺨﺺ ( ﻧﺎﻡ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ) ﺧﻠﯿﻔﮧﮨﺎﺩﯼ ﻧﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯾﺎ۔
18۔۔ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﺭﯾﺠﯽ ﻓﺎﻟﮉ ( ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﮔﻮﺭﻧﺮ )"
ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺻﻼﺡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﯾﻮﺑﯽ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
19۔۔گستاخ رسول ﷺ
" ﯾﻮﻟﻮ ﺟﯿﺌﺲ ﭘﺎﺩﺭﯼ "
ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻧﺪﻟﺲ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
20۔۔ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﺭﺍﺟﭙﺎﻝ "
ﻏﺎﺯﯼ ﻋﻠﻢ ﺩﯾﻦ ﺷﮩﯿﺪ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
21۔۔ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﻧﺘﮭﻮﺭﺍﻡ "
ﻏﺎﺯﯼ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﯿﻮﻡ ﺷﮩﯿﺪ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
22۔۔ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺭﺍﻡ ﮔﻮﭘﺎﻝ "
ﻏﺎﺯﯼ ﻣﺮﯾﺪ ﺣﺴﯿﻦ ﺷﮩﯿﺪ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۶ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞﮨﻮﺍ۔
23۔۔ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﭼﺮﻥ ﺩﺍﺱ "
ﻣﯿﺎﮞ ﻣﺤﻤﺪ ﺷﮩﯿﺪ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۷ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
24۔۔ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝؐ
" ﺷﺮﺩﮬﺎ ﻧﻨﺪ "
ﻏﺎﺯﯼ ﻗﺎﺿﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺷﯿﺪ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۲۶ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
25۔۔ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﭼﻨﭽﻞ ﺳﻨﮕﮫ "
ﺻﻮﻓﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺷﮩﯿﺪ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۸ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
26۔۔ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﻣﯿﺠﺮ ﮨﺮﺩﯾﺎﻝ ﺳﻨﮕﮫ "
ﺑﺎﺑﻮ ﻣﻌﺮﺍﺝ ﺩﯾﻦ ﺷﮩﯿﺪ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۴۲ ﻣﯿﮟﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
27۔۔ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻖ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ "
ﺣﺎﺟﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺎﻧﮏ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۶۷ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ -
28۔۔ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﺑﮭﻮﺷﻦ ﻋﺮﻑ ﺑﮭﻮﺷﻮ "
ﺑﺎﺑﺎ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﻨﺎﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۷ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
29۔۔ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﮐﮭﯿﻢ ﭼﻨﺪ "
ﻣﻨﻈﻮﺭ ﺣﺴﯿﻦ ﺷﮩﯿﺪ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۴۱ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞﮨﻮﺍ۔
30۔۔ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﻧﯿﻨﻮ ﻣﮩﺎﺭﺍﺝ "
ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺨﺎﻟﻖ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۴۶ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
31۔۔ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﻟﯿﮑﮭﺮﺍﻡ ﺁﺭﯾﮧ ﺳﻤﺎﺟﯽ "
ﮐﺴﯽ ﻧﺎﻣﻌﻠﻮﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ
32۔۔ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
" ﻭﯾﺮ ﺑﮭﺎﻥ " ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﺎﻣﻌﻠﻮﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۵ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ
33۔۔ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﻣﻠﻌﻮﻥ ﮐﻮ ﻏﺎﺯﯼ ﺍﺳﻼﻡ
ﻋﺎﺷﻖ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
ﻣﻠﮏ ﻣﻤﺘﺎﺯ ﺣﺴﯿﻦ ﻗﺎﺩﺭﯼ ﻧﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﻭﺍﺻﻞ ﺟﮭﻨﻢ ﮐﯿﺎ
34۔۔گستاخ رسول ﷺ
ایک قادیانی نے نبوت کا دعوی کیا
جسے حال ہی میں
غازی تنویر قادری نے قتل کیا
ﯾﮧ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﭼﻮﺩﮦ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺩﻭﺭﺍﺋﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮬﮯ ﮔﯽ.
بتلا دو گستاخ ِ نبی ﷺ کو
غیرتِ مسلم زندہ ہے.....
دین پہ مر مٹنے کا جزبہ
کل بھی تھا اور آج بھی ہے.....
ہم فیس بک انتظامیہ کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستانی
ایسی فیس بک کو کبھی قبول نہیں کرسکتے جس پر
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی ہو
گستاخانہ مواد ڈلیٹ نہ کیا گیا تو ہم فیس بک کو بند
کرنے پر خوش ہونگے ــــــــــ !
اس پوسٹ کو شیئر کرکے غیرت کا مظاہرہ کریں
امید ہے شائد ہی کوئی بدقسمت ہوگا ایسا جو اس پوسٹ
کو شیئر نہیں کریگا
( پاکستان ذ
ندہ باد )
ہالینڈمیں ہونے والے مقابلے کا منہ توڑ جواب
How to kill Geert Wilders Competition
پچھلی تقریباً ڈیڑھ دہائ سے مغرب کی اسلام دشمن طاقتوں نے حضور اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم کی گستاخیوں کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے
اِن کاروائیوں کے پیچھے کئ عوامل ہیں جنکی تفصیل طویل ہے
اس سلسلے کی تازہ کڑی ہالینڈ میں ہونے والا گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ ہے
ایسے مقابلے یہ مغربی قوتیں اسلۓ منعقد کرتی ہیں کیونکہ یہ جانتی ہیں کہ مسلمانوں کے پاس اِن مقابلوں کو روکنے یا اِن حرکات کو انجام دینے والوں سے بدلہ لینے کا کوئ طریقہ موجود نہیں
جب مسلمان ان مقابلوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہیں تو اِن ممالک کی حکومتیں آزادی اظہارِ راۓ کے پیچھے چھپ جاتی ہیں
اسکے بعد مسلمانوں کے پاس دو ہی طریقے بچتے ہیں
ایک یہ کہ ان ممالک کی اشیاء کا بائیکاٹ کریں اور دوسرا یہ کہ ان ممالک سے سفارتی تعلقات ختم کریں
یہ دونوں ہی اقدامات ایسے ہیں جنھیں حکومتی سطح پر ہی پُراثر انداز میں انجام دیا جاسکتا ہے
مگر جہاں ایک طرف اِن مغربی ممالک نے ہمیں قرضوں کے جال میں جکڑا ہوا ہے وہیں ہمارے اوپر ایسے حکمران بھی مسلط کۓ ہوۓ ہیں جو اِنہی کی بیساکھیوں پر حکومت میں آتے ہیں اور اِن سے آنکھیں ملا کر بات کریں تو اُنکا بھی وہی انجام کر دیا جاتا ہے جو مصر میں مورسی کا ہوا اور اَب اردگان کا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
اسلۓ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انھیں جواب انہی کی زبان میں دیں
جسطرح ناموس رسالت کو نشانہ بنا کر اِن ملعونوں نے ہماری شہہ رگ پر حملہ کیا ہےاُسی طرح ہمیں بھی کرنا چاہۓ اور اُسی ہتھیار کا استعمال کرنا چاہۓ جو یہ ہمارے خلاف کر رہے ہیں یعنی "آزادیِ اظہارِ راۓ"
جس دن گیرٹ وائلڈر گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کر رہا ہے اسی دن تمام مسلم ممالک
(How to kill Geert Wilder Competition)
یعنی "گریٹ وائلڈر کو کیسے قتل کیا جاۓ" اس نام سے ایک مقابلے کا انعقاد کریں
اس مقابلے میں گیرٹ وائلڈر کو مارنے کے طریقوں کو جمع کرنے اور سب سے اچھا طریقہ بتانے والے کو خطیر انعام دینے کا اعلان کیا جاۓ
اس طرح ہم گیرٹ وائلڈر کو اُسی کے جال میں پھنسا دیں گے
یقیناً ہالینڈ کی حکومت مسلم ممالک سے اس مقابلے کو روکنے کا مطالبہ کرے گی جسکے جواب میں ہماری حکومت کہہ سکتی ہے کہ آپ کے ملک میں خاکوں کا جو مقابلہ ہو رہا ہے پہلے اسے رکوائیے
اسکے جواب میں ہالینڈ کہے گا کہ یہ مقابلے ہمارے آزادیِ اظہار کے قانون کے عین مطابق ہے اسلۓ ہم اِسے رکوا نہیں سکتے
جواب میں ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں گستاخِ رسول کو قتل کرنے کا قانون موجود ہے لہٰذا ہمارا یہ مقابلہ بھی ہمارے ملک کے قانون کے عین مطابق ہے اسلۓ ہماری حکومت بھی اِسے نہیں رکوا سکتی
دوسرا فائدہ اسکا یہ ہے کہ جب لاکھوں مسلمان ایک ایسے مقابلے میں شریک ہوں گے جسکا مقصد ہی گیرٹ وائلڈر کو جان سے مارنے کے طریقے بتانا ہے تو سوچۓ کہ خود گیرٹ وائلڈر کی نفسیاتی کیفیت کیا ہوگی؟
یقیناً اُسے اپنے ساۓ سے بھی خوف محسوس ہونے لگے گا
اسلۓ میری تمام دینی جماعتوں سے گزارش ہے کہ وہ اس مقابلے کے انعقاد کی تیاریاں شروع کریں اور اِسکے ہیش ٹیگ استعمال کرنا فوری طور پر شروع کردیں۔ مثلاً
#HowToKillGeertWilders
#HowToKillGeertWildersCompetition
#KillingGeertWildersCompetition
#IdeasToKillGeertWildersDay
مزید میری تمام اہل قلم ساتھیوں سے گزارش ہے کہ میری اس تحریر کو اپنے الفاظ سے اور مزین کرکے, اس میں مزید دلائل شامل کر کے اسے اپنے حلقہ اثر تک پہنچائیں
یاد رکھیں ناموس رسالت پر حملہ پوری امت پر حملہ ہے اور اسکا مقابلہ بھی امت کو مل کر ہی کرنا ہوگا
Baba Abdullah Shah Qasoor ( Baba Bullhay Shah Sarkar)
پیرو مرشد نے نظرِ کرم پھیرلی:
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اندازِ بے رُخی اور اپنے خاصُ الخاص مرید کی بے قدری کا سن کر حضرت علامہ شاہ محمد عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے چہرہ مبارکہ پر ناراضی کےآثار نمودار ہوئے اور فرمایا: ہم نے آج سے بلھے شاہ کی کیاریوں سے اپنا پانی روک لیا ہے،
بس اتنا کہنےکی دیر تھی کہ حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےلئے قیامت برپا ہوگئی جونہی مرشد کریم نے اپنی نظر ِکرم پھیری آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دل پر چھریاں چل گئی،سر پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، دم بھر میں کیا سے کیا ہوگیا ، ہوش رہا نہ جوش،بہار خزاں میں بدل گئی، اجالا اندھیرے میں اور خوشی غم میں تبدیل ہو گئی۔
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آستانے کا انتظام مرید خاص حضرت سلطان احمد مستانہ کے سپرد فرمایا اور مرکز الاولیاء لاہور تشریف لے آئے بارگاہِ مرشد میں حاضری چاہی
مگریہ کیا ! آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو آنے سے روک دیا گیا کوئی شُنوائی نہ ہوئی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی جان پر بَن آئی،جدائی اور پشیمانی کی حالت نے تڑپا کے رکھ دیا ،چین لُٹ گیا اور قرار مِٹ گیا،
مگرپیرو مرشد نے مرید صادق کوابھی آزمانا تھا آزمائش کی بھٹی میں تپا کر کندن بنانا مقصود تھا جبکہ مرید صادق کی بس یہی چاہت تھی کہ کسی طرح مرشد راضی ہوجائیں میری غلطی کو معاف کردیں اسی حالت میں دروازے پر کھڑے رہتے، دیارِمرشد کی خاک چھانتے رہتے نہ دن کا خیال رہا نہ رات کا، آنے والا ہر لمحہ جدائی کے زخم کو مزید گہرا کرتا جاتا۔
مرشد کیسے راضی ہوئے ؟
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہیہ بات جانتے تھے کہ دادا پیروارثِ فیضانِ محمدی حضرت علامہ سیِّد محمد رضا شاہ قادری شطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے عرس مبارک کا زمانہ قریب ہے اور پیرو مرشد کی عرس پر ضرور حاضری ہوتی ہے چنانچہ جب عرس مبارک شروع ہوا اور حضرت شاہ عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تشریف لائے تو حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے چہرے پر نقاب ڈال کر راہ میں کھڑے ہو گئے اورجھوم جھوم کر دیوانہ وار نہایت پرسوز آواز میں اشعار پڑھنے لگے
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آواز میں بَلا کا درد تھا اشعار میں کلیجے کو چھلنی کردینے والی پکار تھی جب مرشد کریم حضرت شاہ عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے مبارک کانوں میں سوزوگداز میں ڈوبی ہوئی آواز پہنچی اور حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اس درد ناک حالت میں دیکھا تو دل پسیج گیا مرید صادق کو پہچان تو گئے تھے لہذا دل جوئی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا
تم بلھے شاہ ہو؟ مرید صادق حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بس یہی آرزو تھی کہ کسی طرح مرشدِ کریم میری جانب توجہ فرمالیں چنانچہ بے اختیار پیرومرشد کے قدموں میں آگرے اور عرض کرنے لگے :
یا مرشدی ! میں بُلھا نئیں ،بھُلا آں یعنی ’’میں بُھولا ہوا ہوں‘‘
مرشد کریم نے مرید صادق کو دونوں ہاتھوں سے اٹھایا اور کمالِ عنایت و شفقت سے اپنےسینے سے لگا لیا پھر تو رحمت کا بند چشمہ دوبارہ پھوٹ نکلا، سوکھی کیاری کو پھر سے پانی مل گیا، حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زندگی گلِ گلزار ہوگئی ،لطف وسرور کے رنگ برنگے پھولوں سے مہک اٹھی اب مرید کامل فنا فی الشیخ کے مرتبے پر فائز ہوچکا تھا ۔
( سائیں بلھے شاہ ،ص۳۵ تا ۴۰ ملخصاً وغیرہ)
پیرا میں بُھل گئی آں، تیرے نال نہ گئی آں
تیر ے عشق نچا یا کر کے تھیا تھیا
بلھا شاہ نو سَدُو شاہ عنایت دے بوہے
جس نے مینو ں پوائے چولے ساوے تے سوہے
جاں میں ماری ہے اڈی مڑ پِیا ہے رہیا
تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا..
Salaahiyat Skills
اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں
فرض کریں آپ کے سامنے چائے کا ایک کپ رکھا ہوا ہے۔
اس میں شکر تو ڈال دی گئی ہے مگر ہلائی نہیں گئی۔
کیا چائے پیتے ہوئے آپ شکر کی مٹھاس محسوس کر پائیں گے؟
نہیں، ہرگز نہیں۔۔۔
اب ایسا کیجیئے کہ چائے کے کپ کو انتہائی غور سے دیکھنا شروع کر دیجیئے۔
دو منٹ کے بعد چائے کو دوبارہ چکھیئے۔
کیا ذائقہ میں کوئی تبدیلی نظر آئی؟
کیا کچھ مٹھاس کا احساس ہوا؟
شاید نہیں!!!
بلکہ اب تو چائے ٹھنڈی بھی ہونا شروع ہو چکی ہوگی۔
ابھی تک تو چائے کے میٹھا ہونے والی کوئی بات نظر نہیں آرہی۔
اب ایک آخری کوشش اس طرح کیجیئے کہ: اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر چائے کے کپ کے ارد گرد چکر لگائیے۔۔
اور ساتھ ساتھ اللہ سے دُعا بھی کرتے رہیئے کہ آپ کی چائے میٹھی ہوجائے۔
ارے یہ تو اچھا خاصا مذاق لگ رہا ہے۔۔۔
بلکہ شاید پاگل پن۔۔۔
اس طرح اور تو کچھ نہیں ہوا۔۔۔
بلکہ چائے بالکل ٹھنڈی ہو چکی ہے۔۔۔
میٹھا تو کیا ہونا تھا اس نے، پینے کے قابل بھی نہیں رہی اب۔۔۔
جی ہاں!! اور بالکل اسی طرح ہی ہماری زندگی ہے۔۔۔
چائے کے ایک کڑوی کسیلے کپ کی طرح۔۔۔
....... اور ہمیں اللہ کی طرف سے عطا کردہ صلاحیتیں شکر کی مانند ہیں۔۔۔
اور اِن صلاحیتوں نے آپکی زندگی میں مٹھاس بھرنےکیلئے اپنے آپ تو نہیں جاگ جانا۔۔۔
لاکھ ہاتھ اُٹھا کر دعائیں کر لیجیئے۔۔۔
حرکت تو دینا پڑے گی ان صلاحیتوں کو۔۔۔
اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار تو لانا ہی پڑے گا آپکو۔۔۔
لگن، محنت، جذبے اور خلوص کے ساتھ۔۔
تاکہ زندگی چائے کے ایک میٹھے اور پُر لطف کپ کی مانند ہو جائے۔۔۔
محمدقمرالدین نورانی جِلاء
فرض کریں آپ کے سامنے چائے کا ایک کپ رکھا ہوا ہے۔
اس میں شکر تو ڈال دی گئی ہے مگر ہلائی نہیں گئی۔
کیا چائے پیتے ہوئے آپ شکر کی مٹھاس محسوس کر پائیں گے؟
نہیں، ہرگز نہیں۔۔۔
اب ایسا کیجیئے کہ چائے کے کپ کو انتہائی غور سے دیکھنا شروع کر دیجیئے۔
دو منٹ کے بعد چائے کو دوبارہ چکھیئے۔
کیا ذائقہ میں کوئی تبدیلی نظر آئی؟
کیا کچھ مٹھاس کا احساس ہوا؟
شاید نہیں!!!
بلکہ اب تو چائے ٹھنڈی بھی ہونا شروع ہو چکی ہوگی۔
ابھی تک تو چائے کے میٹھا ہونے والی کوئی بات نظر نہیں آرہی۔
اب ایک آخری کوشش اس طرح کیجیئے کہ: اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر چائے کے کپ کے ارد گرد چکر لگائیے۔۔
اور ساتھ ساتھ اللہ سے دُعا بھی کرتے رہیئے کہ آپ کی چائے میٹھی ہوجائے۔
ارے یہ تو اچھا خاصا مذاق لگ رہا ہے۔۔۔
بلکہ شاید پاگل پن۔۔۔
اس طرح اور تو کچھ نہیں ہوا۔۔۔
بلکہ چائے بالکل ٹھنڈی ہو چکی ہے۔۔۔
میٹھا تو کیا ہونا تھا اس نے، پینے کے قابل بھی نہیں رہی اب۔۔۔
جی ہاں!! اور بالکل اسی طرح ہی ہماری زندگی ہے۔۔۔
چائے کے ایک کڑوی کسیلے کپ کی طرح۔۔۔
....... اور ہمیں اللہ کی طرف سے عطا کردہ صلاحیتیں شکر کی مانند ہیں۔۔۔
اور اِن صلاحیتوں نے آپکی زندگی میں مٹھاس بھرنےکیلئے اپنے آپ تو نہیں جاگ جانا۔۔۔
لاکھ ہاتھ اُٹھا کر دعائیں کر لیجیئے۔۔۔
حرکت تو دینا پڑے گی ان صلاحیتوں کو۔۔۔
اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار تو لانا ہی پڑے گا آپکو۔۔۔
لگن، محنت، جذبے اور خلوص کے ساتھ۔۔
تاکہ زندگی چائے کے ایک میٹھے اور پُر لطف کپ کی مانند ہو جائے۔۔۔
محمدقمرالدین نورانی جِلاء
Monday, August 27, 2018
Respect others
دوسروں کی قدر کرنا سیکھیئے
خاوند سارے دن کے کام سے تھکا ہارا گھر واپس لوٹا ۔ ۔ ۔
تو کیا دیکھتا ہے کہ اُس کے تینوں بچے گھر کے سامنے ۔ ۔ ۔
کل رات کے پہنے ہوئے کپڑوں میں ہی مٹی میں لت پت کھیل رہے ہیں۔
گھر کے پچھواڑے میں رکھا کوڑا دان بھرا ہوا اور مکھیوں کی آماجگاہ ہوا ہے۔
گھر کے صدر دروازے کے دونوں پٹ تو کھلے ہوئے تھے ہی،
مگر گھر کے اندر مچا ہوا اودھم اور بے ترتیبی کسی میدان جنگ کا منظر پیش کر رہی تھی۔
کمرے کی کُچھ لائٹیں ٹوٹ کر فرش پر بکھری پڑی تھیں تو قالین دیوار کے ساتھ گیا پڑا تھا۔
ٹیلیویژن اپنی پوری آواز کے ساتھ چل رہا تھا تو بچوں کے کھلونے فرش پر بکھرے ہوئے تھے اور کپڑوں کی مچی ہڑبونگ ایک علیحدہ کہانی سنا رہی تھی۔
کچن کا سنک بغیر دُھلی پلیٹوں سے اٹا ہوا تھا تو دسترخوان سے ابھی تک صبح کے ناشتے کے برتن اور بچی کُچھی اشیاء کو نہیں اُٹھایا گیا تھا۔
فریج کا دروازہ کھلا ہوا اور اُس میں رکھی اشیاء نیچے بکھری پڑی تھیں۔
ایسا منظر دیکھ کر خاوند کا دل ایک ہول سا کھا گیا۔ دل ہی دل میں دُعا مانگتا ہوا کہ اللہ کرے خیر ہو، سیڑھیوں میں بکھرے کپڑوں اور برتنوں کو پھاندتا اور کھلونوں سے بچتا بچاتا بیوی کو تلاش کرنے کیلئے اوپر کی طرف بھاگا۔ اوپر پہنچ کر کمرے کی طرف جاتے ہوئے راستے میں غسلخانے سے پانی باہر آتا دِکھائی دیا تو فوراً دروازہ کھول کر اندر نظر دوڑائی، باقی گھر کی طرح یہاں کی صورتحال بھی کُچھ مختلف نہیں تھی، تولئیے پانی سے بھیگے فرش پر پڑے تھے۔ باتھ ٹب صابن کے جھاگ اور پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا اور اُسی کا پانی ہی باہر جا رہا تھا۔ ٹشو پیپر مکمل طور پر پانی میں ڈوبے ہوئے تھے، ٹوتھ پیسٹ کو شیشے پر ملا ہوا تھا۔ خاوند نے یہ سب چھوڑ کر ایک بار پھر اندر کمرے کی طرف دوڑ لگائی۔ دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھولا تو انتہائی حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ اُسکی بیوی مزے سے بیڈ پر لیٹی ہوئی کسی کہانی کی کتاب کو پڑھ رہی تھی۔ خاوند کو دیکھتے ہی کتاب نیچے رکھ دی اور چہرے پر ایک مسکراہٹ لاتے ہوئے بولی؛ آپ آ گئے آفس سے، کیسا گُزرا آپکا دِن؟
خاوند نے بیوی کا التفات اور استقبال نظر انداز کرتے پوچھا؛ آج گھر میں کیا اودھم مچا پڑا ہے؟
بیوی نے ایک بار پھر مُسکرا کر خاوند کو دیکھا اور کہا؛ روزانہ کام سے واپس آ کر کیا آپ یہی نہیں کہا کرتے کہ میں گھر میں رہ کر کیا اور کونسا اہم کام کرتی ہوں؟
خاوند نے کہا؛ ہاں ایسا تو ہے، میں اکثر یہ سوال تُم سے کرتا رہتا ہوں۔
بیوی نے کہا؛ تو پھر دیکھ لیجیئے، آج میں نے وہ سب کُچھ ہی تو نہیں کیا جو روزانہ کیا کرتی تھی۔
پیغام
ضروری ہے کہ انسان دوسروں کی محنت اور اُن کے کیئے کاموں کی قدر اور احساس کرے کیونکہ زندگی کا توازن مشترکہ کوششوں سے قائم ہے۔ زندگی کچھ لینے اور کچھ دینے سے عبارت ہے۔ جس راحت اور آرام کی معراج پر آپ پہنچے ہوئے ہیں اُس میں دوسروں کے حصہ کو نظر انداز نا کیجیئے۔ ہمیشہ دوسروں کی محنت کا اعتراف کیجیئے اور بعض اوقات تو صرف آپکی حوصلہ افزائی اور اور قدر شناسی بھی دوسروں کو مہمیز کا کام دے جایا کرتی ہے۔ دوسروں کو اتنی تنگ نظری سے نا دیکھیئے۔
محمدقمرالدین نورانی جِلاء
خاوند سارے دن کے کام سے تھکا ہارا گھر واپس لوٹا ۔ ۔ ۔
تو کیا دیکھتا ہے کہ اُس کے تینوں بچے گھر کے سامنے ۔ ۔ ۔
کل رات کے پہنے ہوئے کپڑوں میں ہی مٹی میں لت پت کھیل رہے ہیں۔
گھر کے پچھواڑے میں رکھا کوڑا دان بھرا ہوا اور مکھیوں کی آماجگاہ ہوا ہے۔
گھر کے صدر دروازے کے دونوں پٹ تو کھلے ہوئے تھے ہی،
مگر گھر کے اندر مچا ہوا اودھم اور بے ترتیبی کسی میدان جنگ کا منظر پیش کر رہی تھی۔
کمرے کی کُچھ لائٹیں ٹوٹ کر فرش پر بکھری پڑی تھیں تو قالین دیوار کے ساتھ گیا پڑا تھا۔
ٹیلیویژن اپنی پوری آواز کے ساتھ چل رہا تھا تو بچوں کے کھلونے فرش پر بکھرے ہوئے تھے اور کپڑوں کی مچی ہڑبونگ ایک علیحدہ کہانی سنا رہی تھی۔
کچن کا سنک بغیر دُھلی پلیٹوں سے اٹا ہوا تھا تو دسترخوان سے ابھی تک صبح کے ناشتے کے برتن اور بچی کُچھی اشیاء کو نہیں اُٹھایا گیا تھا۔
فریج کا دروازہ کھلا ہوا اور اُس میں رکھی اشیاء نیچے بکھری پڑی تھیں۔
ایسا منظر دیکھ کر خاوند کا دل ایک ہول سا کھا گیا۔ دل ہی دل میں دُعا مانگتا ہوا کہ اللہ کرے خیر ہو، سیڑھیوں میں بکھرے کپڑوں اور برتنوں کو پھاندتا اور کھلونوں سے بچتا بچاتا بیوی کو تلاش کرنے کیلئے اوپر کی طرف بھاگا۔ اوپر پہنچ کر کمرے کی طرف جاتے ہوئے راستے میں غسلخانے سے پانی باہر آتا دِکھائی دیا تو فوراً دروازہ کھول کر اندر نظر دوڑائی، باقی گھر کی طرح یہاں کی صورتحال بھی کُچھ مختلف نہیں تھی، تولئیے پانی سے بھیگے فرش پر پڑے تھے۔ باتھ ٹب صابن کے جھاگ اور پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا اور اُسی کا پانی ہی باہر جا رہا تھا۔ ٹشو پیپر مکمل طور پر پانی میں ڈوبے ہوئے تھے، ٹوتھ پیسٹ کو شیشے پر ملا ہوا تھا۔ خاوند نے یہ سب چھوڑ کر ایک بار پھر اندر کمرے کی طرف دوڑ لگائی۔ دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھولا تو انتہائی حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ اُسکی بیوی مزے سے بیڈ پر لیٹی ہوئی کسی کہانی کی کتاب کو پڑھ رہی تھی۔ خاوند کو دیکھتے ہی کتاب نیچے رکھ دی اور چہرے پر ایک مسکراہٹ لاتے ہوئے بولی؛ آپ آ گئے آفس سے، کیسا گُزرا آپکا دِن؟
خاوند نے بیوی کا التفات اور استقبال نظر انداز کرتے پوچھا؛ آج گھر میں کیا اودھم مچا پڑا ہے؟
بیوی نے ایک بار پھر مُسکرا کر خاوند کو دیکھا اور کہا؛ روزانہ کام سے واپس آ کر کیا آپ یہی نہیں کہا کرتے کہ میں گھر میں رہ کر کیا اور کونسا اہم کام کرتی ہوں؟
خاوند نے کہا؛ ہاں ایسا تو ہے، میں اکثر یہ سوال تُم سے کرتا رہتا ہوں۔
بیوی نے کہا؛ تو پھر دیکھ لیجیئے، آج میں نے وہ سب کُچھ ہی تو نہیں کیا جو روزانہ کیا کرتی تھی۔
پیغام
ضروری ہے کہ انسان دوسروں کی محنت اور اُن کے کیئے کاموں کی قدر اور احساس کرے کیونکہ زندگی کا توازن مشترکہ کوششوں سے قائم ہے۔ زندگی کچھ لینے اور کچھ دینے سے عبارت ہے۔ جس راحت اور آرام کی معراج پر آپ پہنچے ہوئے ہیں اُس میں دوسروں کے حصہ کو نظر انداز نا کیجیئے۔ ہمیشہ دوسروں کی محنت کا اعتراف کیجیئے اور بعض اوقات تو صرف آپکی حوصلہ افزائی اور اور قدر شناسی بھی دوسروں کو مہمیز کا کام دے جایا کرتی ہے۔ دوسروں کو اتنی تنگ نظری سے نا دیکھیئے۔
محمدقمرالدین نورانی جِلاء
Naatia Kalaam
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
تیری خوشبو، میری چادر
تیرے تیور، میرے زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
میری منزل، تیری آہٹ
میرا سدرہ، تیری چوکھٹ
تیری گاگر، میرا ساگر
تیرا صحرا، میرا پنگھٹ
میں ازل سے تیرا پیاسا
نہ ہو خالی میرا کاسہ
تیرے واری، ترا بالک
وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
۔
تیری مِدحت، میری بولی
تُو خزانہ، میں ہوں جھولی
تیرا سایہ، میری کایا
تیرا جھونکا، میری ڈولی
تیرا رستہ، میرا ہادی
تیری یادیں، میری وادی
تیرے ذرے، میرے دیپک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
تیرے دم سے دلِ بینا
کبھی فاراں، کبھی سینا
نہ ہو کیوں پھر تیری خاطر
میرا مرنا میرا جینا
یہ زمیں بھی ہو فلک سی
نظر آئے جو جھلک سی
تیرے دَر سے میری جاں تک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
میں ہوں قطرہ، تُو سمندر
میری دُنیا تیرے اندر
سگِ داتا میرا ناتا
نہ ولی ہوں، نہ قلندر
تیرے قدموں میں پڑے ہیں
میرے جیسے تو بڑے ہیں
کوئی تجھ سا نہیں بیشک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
میں ادھورا، تُو مکمل
میں شکستہ تُو مُسلسل
میں سُخن ور، تُو پیمبر
میرا مکتب، تیرا اِک پَل
تیری جُنبش، میرا خامہ
تیرا نقطہ، میرا نامہ
کیا تُو نے مجھے زِیرک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
میری سوچیں ہوں سوالی
میرا لہجہ ہو بِلالی ؓ
شبِ تِیرہ، کرے خیرہ
میرے دن بھی ہوں مثالی
تیرا مظہر ہو میرا فن
رہے اُجلا میرا دامن
نہ ہو مجھ میں کوئی کالک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
شاعر: مظفر وارثیؒ
#Madina #Muhammad #Naat #kalaam #muzaffarwarsi
۔
تیری خوشبو، میری چادر
تیرے تیور، میرے زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
میری منزل، تیری آہٹ
میرا سدرہ، تیری چوکھٹ
تیری گاگر، میرا ساگر
تیرا صحرا، میرا پنگھٹ
میں ازل سے تیرا پیاسا
نہ ہو خالی میرا کاسہ
تیرے واری، ترا بالک
وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
۔
تیری مِدحت، میری بولی
تُو خزانہ، میں ہوں جھولی
تیرا سایہ، میری کایا
تیرا جھونکا، میری ڈولی
تیرا رستہ، میرا ہادی
تیری یادیں، میری وادی
تیرے ذرے، میرے دیپک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
تیرے دم سے دلِ بینا
کبھی فاراں، کبھی سینا
نہ ہو کیوں پھر تیری خاطر
میرا مرنا میرا جینا
یہ زمیں بھی ہو فلک سی
نظر آئے جو جھلک سی
تیرے دَر سے میری جاں تک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
میں ہوں قطرہ، تُو سمندر
میری دُنیا تیرے اندر
سگِ داتا میرا ناتا
نہ ولی ہوں، نہ قلندر
تیرے قدموں میں پڑے ہیں
میرے جیسے تو بڑے ہیں
کوئی تجھ سا نہیں بیشک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
میں ادھورا، تُو مکمل
میں شکستہ تُو مُسلسل
میں سُخن ور، تُو پیمبر
میرا مکتب، تیرا اِک پَل
تیری جُنبش، میرا خامہ
تیرا نقطہ، میرا نامہ
کیا تُو نے مجھے زِیرک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
میری سوچیں ہوں سوالی
میرا لہجہ ہو بِلالی ؓ
شبِ تِیرہ، کرے خیرہ
میرے دن بھی ہوں مثالی
تیرا مظہر ہو میرا فن
رہے اُجلا میرا دامن
نہ ہو مجھ میں کوئی کالک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
شاعر: مظفر وارثیؒ
#Madina #Muhammad #Naat #kalaam #muzaffarwarsi
Subscribe to:
Comments (Atom)
-
#dunya #world #bhool #forget #forgot #earth #love #ishq #mustafa Yeh dunya bhool jaati hai ye dunya bhool jaayegi Mahabbat Mustafa ki b...
-
AURAT KI ASL MAHAARAT







