ہالینڈمیں ہونے والے مقابلے کا منہ توڑ جواب
How to kill Geert Wilders Competition
پچھلی تقریباً ڈیڑھ دہائ سے مغرب کی اسلام دشمن طاقتوں نے حضور اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم کی گستاخیوں کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے
اِن کاروائیوں کے پیچھے کئ عوامل ہیں جنکی تفصیل طویل ہے
اس سلسلے کی تازہ کڑی ہالینڈ میں ہونے والا گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ ہے
ایسے مقابلے یہ مغربی قوتیں اسلۓ منعقد کرتی ہیں کیونکہ یہ جانتی ہیں کہ مسلمانوں کے پاس اِن مقابلوں کو روکنے یا اِن حرکات کو انجام دینے والوں سے بدلہ لینے کا کوئ طریقہ موجود نہیں
جب مسلمان ان مقابلوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہیں تو اِن ممالک کی حکومتیں آزادی اظہارِ راۓ کے پیچھے چھپ جاتی ہیں
اسکے بعد مسلمانوں کے پاس دو ہی طریقے بچتے ہیں
ایک یہ کہ ان ممالک کی اشیاء کا بائیکاٹ کریں اور دوسرا یہ کہ ان ممالک سے سفارتی تعلقات ختم کریں
یہ دونوں ہی اقدامات ایسے ہیں جنھیں حکومتی سطح پر ہی پُراثر انداز میں انجام دیا جاسکتا ہے
مگر جہاں ایک طرف اِن مغربی ممالک نے ہمیں قرضوں کے جال میں جکڑا ہوا ہے وہیں ہمارے اوپر ایسے حکمران بھی مسلط کۓ ہوۓ ہیں جو اِنہی کی بیساکھیوں پر حکومت میں آتے ہیں اور اِن سے آنکھیں ملا کر بات کریں تو اُنکا بھی وہی انجام کر دیا جاتا ہے جو مصر میں مورسی کا ہوا اور اَب اردگان کا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
اسلۓ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انھیں جواب انہی کی زبان میں دیں
جسطرح ناموس رسالت کو نشانہ بنا کر اِن ملعونوں نے ہماری شہہ رگ پر حملہ کیا ہےاُسی طرح ہمیں بھی کرنا چاہۓ اور اُسی ہتھیار کا استعمال کرنا چاہۓ جو یہ ہمارے خلاف کر رہے ہیں یعنی "آزادیِ اظہارِ راۓ"
جس دن گیرٹ وائلڈر گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کر رہا ہے اسی دن تمام مسلم ممالک
(How to kill Geert Wilder Competition)
یعنی "گریٹ وائلڈر کو کیسے قتل کیا جاۓ" اس نام سے ایک مقابلے کا انعقاد کریں
اس مقابلے میں گیرٹ وائلڈر کو مارنے کے طریقوں کو جمع کرنے اور سب سے اچھا طریقہ بتانے والے کو خطیر انعام دینے کا اعلان کیا جاۓ
اس طرح ہم گیرٹ وائلڈر کو اُسی کے جال میں پھنسا دیں گے
یقیناً ہالینڈ کی حکومت مسلم ممالک سے اس مقابلے کو روکنے کا مطالبہ کرے گی جسکے جواب میں ہماری حکومت کہہ سکتی ہے کہ آپ کے ملک میں خاکوں کا جو مقابلہ ہو رہا ہے پہلے اسے رکوائیے
اسکے جواب میں ہالینڈ کہے گا کہ یہ مقابلے ہمارے آزادیِ اظہار کے قانون کے عین مطابق ہے اسلۓ ہم اِسے رکوا نہیں سکتے
جواب میں ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں گستاخِ رسول کو قتل کرنے کا قانون موجود ہے لہٰذا ہمارا یہ مقابلہ بھی ہمارے ملک کے قانون کے عین مطابق ہے اسلۓ ہماری حکومت بھی اِسے نہیں رکوا سکتی
دوسرا فائدہ اسکا یہ ہے کہ جب لاکھوں مسلمان ایک ایسے مقابلے میں شریک ہوں گے جسکا مقصد ہی گیرٹ وائلڈر کو جان سے مارنے کے طریقے بتانا ہے تو سوچۓ کہ خود گیرٹ وائلڈر کی نفسیاتی کیفیت کیا ہوگی؟
یقیناً اُسے اپنے ساۓ سے بھی خوف محسوس ہونے لگے گا
اسلۓ میری تمام دینی جماعتوں سے گزارش ہے کہ وہ اس مقابلے کے انعقاد کی تیاریاں شروع کریں اور اِسکے ہیش ٹیگ استعمال کرنا فوری طور پر شروع کردیں۔ مثلاً
#HowToKillGeertWilders
#HowToKillGeertWildersCompetition
#KillingGeertWildersCompetition
#IdeasToKillGeertWildersDay
مزید میری تمام اہل قلم ساتھیوں سے گزارش ہے کہ میری اس تحریر کو اپنے الفاظ سے اور مزین کرکے, اس میں مزید دلائل شامل کر کے اسے اپنے حلقہ اثر تک پہنچائیں
یاد رکھیں ناموس رسالت پر حملہ پوری امت پر حملہ ہے اور اسکا مقابلہ بھی امت کو مل کر ہی کرنا ہوگا

No comments:
Post a Comment