ads 1

Monday, October 29, 2018

Mere Hussain Tujhe Salaam Manqabat Muhammad Ashfaq Madani

Shauq e Il


شوقِ علم ۔ حضرت سیّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تعلیم و تربیت کے بارے میں ایک کتاب میں لکھا ہے کہ جس پاکیزہ فطرت ماں کی آغوش میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پرورش پائی اس کی زبان ذکرِ الٰہی میں مصروف اور دل جلوۂ حق سے سرشار رہتا تھا ۔ اس لئے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ابتدائے عمر ہی سے بڑی مُحتَاط ا ور پاکیزہ زندگی گزاری۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو بچپن ہی سے عبادت کا شَوق تھا۔نیک والدین کی تربیت نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اخلاق کو شروع ہی سے پاکیزگی کے سانچے میں ڈھال دیا تھا ۔ہوش سنبھالتے ہی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو تعلیم کے لئے مکتب میں بٹھا دیا گیا ۔ حُرُوف شَنَاسِی کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے قرآنِ پاک مکمل پڑھ لیا۔ (اللہ کے خاص بندے ،ص۴۵۹ ) ۔ حضرتداتا گنج بخش علی ہجویریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بچپن ہی سے محنت وجانفشانی کےساتھ علمِ دین حاصل کرنا شروع کر دیا تھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ حصولِ علم میں اتنےمشغول رہتے کہ نہ تو کھانے پینے کا خیال رہتا اور نہ ہی گر د و پیش کی خبر ۔چنانچہ حضرت خواجہ مستان شاہ کابلیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالغَنِی فرماتے ہیں:جن کا دل اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف مُتَوَجّہ ہو وہ دنیا کی نعمتوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے ۔ حضرت سیدنا علی بن عثمان ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سلطان محمود غزنوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے قائم کردہ دینی مدرسہ میں تقریباً بارہ تیرہ سال کی عمر میں زیرِ تعلیم تھے۔حصولِ علم کے جَذبہ سے سَرشار تعلیم میں اتنا مَحَو (یعنی مشغول) ہوتےکہ صَبْح سے شام ہو جاتی مگر پانی تک پینے کی فرصت نہ ملتی ۔رِضوان نامی سفید ریش بزرگ اس مدرسہ کے مُدَرِّس تھے ۔ وہ اپنے اس خاموش طبع طالِبِ علم کو تکریم کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔( اللہ کے خاص بندے ،ص۴۵۹ ) ۔ کتاب: فیضانِ داتاعلی ہجویری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ . صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

Koora PHainkane Waali Hadees ki Haqeeqat by Allama Khadim Hussain Rizvi

Imam Ahmad Raza Khan Manqabat by Abu Muawiya Madani


Imam Ahmad Raza Khan Manqabat by Abu Muawiya Madani

jaahil sufi - jahil


dajjaal dajjal dajal


دجال کا فِتنہ اور فِتنہء دجال سے محفوظ رہنے والے '' حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللّہ عنہُ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کے متعلق ہمیں بہت طویل خُطبہ دیا۔آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: '' دجال کے فِتنوں میں سے یہ ہے کہ وہ آسمان کو بارش برسانے کا حُکم دے گا تو بارش ہو گی اور زمین کو درخت اُگانے کا حُکم دے گا تو زمین درخت اُگائے گی اور اس کے فِتنوں میں سے یہ ہے کہ وہ ایک قبیلہ کے پاس سے گُزرے گا تو وہ اس کی تکذیب کریں گے سو ان کے مویشی ہلاک ہو جائیں گے،اور اس کے فِتنوں میں سے یہ ہے کہ وہ ایک قبیلہ کے پاس سے گُزرے گا تو وہ اس کی تصدیق کریں گے تو وہ آسمان کو بارش کا حُکم دے گا تو بارش ہو جائے گی اور زمین کو سبزہ اُگانے کا حُکم دے گا تو زمین سبزہ اُگائے گی حتیٰ کہ ان کے مویشی چریں گے اور وہ پہلے سے بہت موٹے اور فربہ ہو جائیں گے۔ان کی کوکھیں بھری ہوئی ہوں گی اور ان کے تھن دودھ سے پُر ہوں گے۔وہ تمام روئے زمین کا سفر کر کے اس پر غلبہ حاصل کرے گا،ماسِوا مکّہ اور مدینہ کے،ان کے درمیان پہاڑی راستوں پر وہ نہیں جا سکے گا اور ہر راستہ پر فرشتے تلواریں سونتیں کھڑے ہوں گے۔حتیٰ کہ وہ بنجر زمین میں ایک چھوٹی پہاڑی پر اُترے گا،پِھر مدینہ میں تین زلزلے آئیں گے اور ہر منافق مرد اور عورت نِکل کر اس کی طرف آ جائیں گے۔سو مدینہ اپنے میل کچیل کو اس طرح نِکال دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو نِکال دیتی ہے،اور وہ دن یومِ نِجات کہلائے گا۔ '' پِھر اُمِّ شریک بِن العکر نے کہا: '' یارسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم! اس دن عرب کہاں ہوں گے؟ '' آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: '' عرب اس دن کم ہوں گے اور ان کا اِمام ایک نیک شخص ہو گا۔جس وقت ان کا اِمام ان کو صُبح کی نماز پڑھا رہا ہو گا اس وقت صُبح کو عیسیٰ اِبنِ مریم ( علیہ السّلام ) نازل ہوں گے۔وہ اِمام اُلٹے پَیر پیچھے ہٹ جائے گا تاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں۔ '' پِھر عیسیٰ علیہ السّلام اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ کر فرمائیں گے: '' آگے بڑھو،نماز پڑھاؤ،اقامت تمہارے لیے کہی گئی ہے۔ '' پِھر ان کا اِمام ان کو نماز پڑھائے گا۔جب وہ نماز پڑھ لیں گے تو عیسیٰ علیہ السّلام فرمائیں گے: '' ( مسجد کا ) دروازہ کھول دو۔ '' دروازہ کھولا جائے گا تو اس کے پیچھے ستّر ہزار یہودیوں کے ساتھ دجال ہو گا۔وہ سب موٹی چادریں اوڑھے تلواروں سے مسلح ہوں گے۔جب دجال حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو دیکھے گا تو اس طرح پِگھل جائے گا جس طرح نمک پانی میں پِگھل جاتا ہے اور وہاں سے بھاگے گا۔عیسیٰ ( علیہ السّلام ) فرمائیں گے: '' میں تجھے ایک ایسی ضرب لگاؤں گا جس سے تُو زندہ نہ بچ سکے گا۔ '' وہ جس چیز کے پاس جا کر چُھپیں گے وہ چیز بتا دے گی یہاں یہودی چُھپا ہُوا ہے،خواہ وہ پتّھر ہو،درخت ہو،دیوار ہو یا کوئی جانور ہو۔اس سے آواز آئے گی: '' اے اللّہ کے مُسلمان بندّے! یہ یہودی ہے اس کو قتل دے۔ '' حوالہ جات:- ( سنن اِبنِ ماجہ : 4077 ) ( المستدرک،جِلد 4،صفحہ 534 ) ( شرح المواہب اللدنیہ،جِلد 6،صفحہ 61،53 )

TAHAFFUZ E AURAT


تحفظ عورت، خاندان اور مارکیٹ ۔۔۔۔ حقیقت اور افسانوں کا فرق تصور کریں اس عورت کے بارے میں جسکا خاوند، باپ، بھائی یا بیٹا (یا کوئی دوسرا قریبی رشتہ دار) اسکی معاشی کفالت کا پورا ذمہ اٹھائے ھوئے ھے، گھر سے باہر آتے جاتے وقت اسکے تحفظ کی خاطر اسکے ساتھ ھونے کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ھے، اسکی ضرورت کی ہر شے اسے گھر کی دہلیز پر مہیا کرتا ھے، اپنی عمر بھر کی کمائی ہنسی خوشی اس پر خرچ کردیتا ھے، اسے اچھا کھلاتا اور پہناتا ھے، اسکی عزت کی حفاظت کیلئے اپنی جان تک قربان کردینے کیلئے تیار رھتا ھے، اور 'بالآخر' (بادل ناخواستہ ہی صحیح) گھر کے معاملات بھی اسی عورت کی جھولی میں ڈال دیتا ھے (یہ تصور کہ ہمارے معاشرے میں خاندانی نظام کی عورت کے پاس فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں ھوتی ایک افسانہ ھے، خاندانی نظم کے اندر بچوں کی عمر ذرا زیادہ ھونے کے بعد عورت بالعموم کس قدر بااختیار ھوجاتی ھے اسکا اندازہ ہر شوھر کو ھوتا ھے )۔ یہاں جس عورت کی زندگی کا نقشہ کھینچا گیا یہ کوئی تخیلاتی عورت نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں آج بھی خواتین کی غالب ترین اکثریت کم و بیش یہی زندگی گزار رھی ھے (کچھ اس خاندانی نظام کی شکست و ریخت اور کچھ مارکیٹ نظم کا حصہ بن جانے کی وجہ سے مظالم کا شکار ہیں، ان مظالم کا تعلق ہرگز خاندانی نظام کے ڈھانچے سے نہیں جیسا کہ ہمارا لبرل طبقہ جھانسا دینے کی کوشش کرتا ھے کیونکہ اس صورت میں یہ غالب ترین اکثریت بھی ان مظالم سے محفوظ نہ ھوتی)۔ اب اسکا موازنہ کریں اس عورت کی زندگی سے جو اپنی معاشی کفالت کی خود ذمہ دار ھے، گھر اور بچوں کی ذمہ داری بھی اسی کے کاندھوں پر ھے، صبح ناشتہ بھی بناتی ھے، بچوں کو تیار بھی کرتی ھے، انکے لنچ کا بندوبست بھی کرتی ھے، آفس کے جبر کو بھی برداشت کرتی ھے، باس کی باتیں بھی سنتی ھے، شام کو سب کیلئے کھانا بھی بناتی ھے، لانڈری بھی کرتی ھے۔ اگر قسمت نے یارانہ کیا تو شاید عمر بھی ساتھ نبھانے والا کوئی شوھر ہاتھ آجائے وگرنہ یہ سارا بوجھ اکیلے ہی اٹھائے پھرے گی۔ یہ نقشہ ھے جدید و ترقی یافتہ معاشروں کی غالب ترین خواتین کی زندگی کا۔ اس عورت کو اپنے تحفظ و بقا کیلئے ان پروسزز ، اشیاء و خدمات کی ضرورت ھے جنہیں مارکیٹ سے 'خریدنا' پڑتا ھے لہذا یہ عورت اس نظام کے تحت مجبور ھے کہ اپنی قوت خرید کو برقرار رکھنے کیلئے مارکیٹ کا حصہ بنی رھے۔ یہ اس نظام کا عورت پر جبر ھے۔ نفس معاملہ یہ ھے کہ ھیومن رائٹس اور اسپر مبنی مارکیٹ اور جمہوری نظم معاشرے کی اکائی کو فرد تک محدود (individualize) کرکے عورت کی کفالت کی ذمہ داری خود عورت کے کاندھوں پر ڈال دیتے ہیں۔ یہ انسانی تاریخ میں عورت پر ھونے والے بدترین مظالم میں سے عظیم تر ظلم ھے، ایک اس لئے کہ یہ اس جنس پر ایک ایسا بوجھ ڈال دینا ھے جو اسکی تخلیق کے مقصد ہی کے خلاف ھے، دوئم اس لئے کہ جدید نظام اس ظلم و شر کو عدل و خیر کے پردوں میں چھپا کر انسانوں کیلئے قابل قبول بناتا ھے (اس اعتبار سے یہ عورت کی بلا وجہ مار پیٹ کرنے سے بھی بڑا ظلم ھے کہ اس عمل کو ہر معاشرت و نظرئیے نے بہرحال برا ہی سمجھا مگر عورتوں میں پروفیشنل ازم کے فروغ کے ذریعے انکی مارکیٹائزیشن کے عمل کو آزادی و خودمختاری کے خوشنما نعروں میں پیش کیا جارہا ھے)۔ مارکیٹ نظم میں عورت اور مرد 'فرد' ہیں، یہاں دونوں اپنے تحفظ کیلئے غیر جذباتی و غیر شخصی ریاستی اداروں (impersonal and procedural state institutions) کے محتاج ہیں، جہاں ریاست کی پہنچ نہیں (ظاہر ھے ریاست ہر جگہ موجود نہیں ھوسکتی) وہاں طاقتور 'اکیلا' کمزور 'اکیلے' کو دبوچ لیتا ھے۔ یہی وجہ ھے کہ مارکیٹ نظم کے پھیلنے کے نتیجے میں ریپ (rape) کے مواقع بہت بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں روایتی برادری نظم میں عورت کے تحفظ کا دائرہ محرم (اور بعض اوقات خاندان سے متعلقہ چند قریبی اور قابل اعتماد غیر محرم) رشتہ داروں کے گرد بنا جاتا ھے۔ یہی وجہ ھے کہ روایتی معاشرت میں ریپ کے وارداتیں انتہائی شاذونادر ھوتی ہیں کیونکہ ایک فرد (یا چند افراد) کے ہاتھ یہ موقع آجانا ہی خاصا مشکل امر ھوتا ھے کہ وہ ایک اکیلی عورت کو اس حالت میں کہیں پالے کہ اسے اپنی ھوس کا نشانہ بنا سکے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلے۔ ان دونوں میں سے کونسی عورت زیادہ محفوظ و آسودہ زندگی گزار رھی ھے؟ آخر ان دونوں کے حال میں اس قدر فرق کیوں ھے؟ اسکی بنیادی وجہ یہ ھے کہ ایک عورت اس نظم کا حصہ ھے جو خدا کی بتائی ھوئی فطری طرز معاشرت میں زندگی بسر کررھی ھے، وہ معاشرت جو محبت و صلہ رحمی کی بنیاد پر تعمیر ھوتی ھے، دوسری عورت تسکین لذات و بڑھوتری سرمایہ کی خاطر اغراض کی بنیاد پر تعمیر کی گئی معاشرت کا ایک پرزہ بنا دی گئی ھے اور جس سے باہر نکلنے کی کوئی راہ یہ نظام اسے فراھم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ اسی لئے پہلی عورت محفوظ ھے جبکہ دوسری غیر محفوظ (vulnerable)۔ جن 'دانشوروں' اور 'سکالرز' کا خیال یہ ھے کہ موجودہ نظام کو ختم کرنے کی جدوجہد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ یہ ظلم نہیں کرتا وہ بصیرت ہی سے محروم ہیں، انکے یہ لایعنی تجزئیے انہیں موجودہ نظام کے خلاف جہاد کرنے سے روکتے ہیں کہ انکے نزدیک یہ نظام فتنہ، ظلم و فساد فی الارض کا باعث نہیں بن رھا۔ جبکہ حقیقت یہ ھے کہ انسانی تاریخ میں تہذیب کا ایسا اجاڑ آج تک کسی معاشرتی و ریاستی نظم نے اس منظم طور پر نہ کیا ھوگا جتنا اس نام نہاد ترقی یافتہ جدید تہذیب نے کیا ھے۔ آخر اسکی وجہ کیا ھے کہ جدید انسان بہر حال اس محفوظ عورت کو غیرمحفوظ بنانے کیلئے اسے مارکیٹ کے مظالم و جبر کا شکار کرنا چاھتا اور ایسا کرنے کو عقل کا تقاضا بھی سمجھتا ھے (جیسے اس نے مرد کو اس ظلم و جبر کا شکار کرڈالا ھے)؟ اسکی وجہ یہ ھے کہ جدید انسان آزادی یعنی بڑھوتری سرمایہ کو بالذات مقصد گردانتا ھے اور اس کائنات کی ہر شے (بشمول انسان) اس مقصد کے حصول کا ذریعہ ھے، لہذا عورت بھی اس اصول سے مستثنی نہیں۔ عمل تکاثر میں مہمیز اضافے کی خواہش ہی اسکی قلب کی اصل کثافت ھے۔ #ن

Sunday, October 28, 2018

Namoos e Risaalat and European courts - blasphemy law

ناموسِ رسالت اور یورپی عدالت تحقیق وتحریر از محمد عثمان صدیقی ”یورپی عدالتِ انصاف برائے انسانی حقوق“ کا توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے دو روز قبل ایک اہم فیصلہ آیا 2008 سے اب تک کیس کا پس منظرکیا ہے اس پر مختصر و جامع تحقیق پیش ہے۔ مطالعہ فرمائیں یورپ کا ملک آسٹریا جہاں کے سرکاری مذہب عیسائیت کے بعد دوسرا بڑاسرکاری مذہب اسلام ہے۔87 لاکھ کی آبادی کے اس ملک میں 6 لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ 60,000 مسلمان بچے وہاں کی رائج جرمن زبان میں اسلامی تعلیمات حاصل کر رہے ہیں۔ آسٹریا میں کم و بیش 200 سے زائد مساجد ہیں جن میں اکثر ترکی کے آئمہ تعینات ہیں۔ اسلام آسٹریا میں تیزی سے پھیل رہا ہے جس پر اسلام مخالف قوتیں ناخوش ہیں اور آئے روز منظم تحریک چلاتی رہتی ہیں۔ آسٹریا میں دو بڑی اسلام مخالف تنظیمات زیادہ متحرک ہیں ایک تو ”جرمن پیگیڈا“ اور دوسری ”فریڈم پارٹی“ پیگیڈا چونکہ آسٹریا میں نئی نئی ہے تو اس کا زیادہ زور نہیں مگر فریڈم پارٹی ملک میں کافی اثر رسوخ رکھتی ہے۔ یہ آسٹریا میں اسلام روکنے کے لئے برسہا برس سے اینٹی امیگریشن اور اینٹی اسلامائزیشن تحریک چلا رہی ہے۔ اس اسلام مخالف تحریک کا اثر حکومت پر بھی اس قدر ہے کہ رواں سال 2018 میں آسٹریا کے موجودہ حکمران چانسلر Sebastian Kurz نے ترکی کی امداد سے چلنے والی 40 مساجد بند کرتے ہوئے آئمہ کو ملک بدر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ Subastian Kurz نے مساجد کی بندش کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ اقدام اسلام کو ناکام بنانے کے لئے کیا گیاہے آسٹریا میں اسلامیت، متوازی معاشرے یا انتہا پسندی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ تو یہ مختصراً عرض کیا آپکو آسٹریا کے اسلام مخالف حالات کا تناظر اب آتے ہیں یورپی عدالت کے حالیہ فیصلے پر تو صاحبوں آسٹریا میں ہی ایک 61 سالہ اسلام مخالف متعصب خاتون سیاست دان Sussane Winter ہے یہ عرصہ دراز سے آسٹرین معاشرے میں اسلام مخالف متحرک تنظیم ”فریڈم پارٹی“ (جسکا اوپر ذکر کئےجا چکا ہے) کے پلیٹ فارم سے نبی پاک علیہ وسلم کی ذات مبارکہ آپ کی ازدواجی زندگی کے حوالے سے بکواسات کرتی رہی ہے۔ توہین رسالت کے لئے اس نے 2008 اور 2009 میں مختلف جگہوں میں منظم سیمینارز منعقد کروائے۔ جس کا عنوان رکھا گیا ” اسلام کی بنیادی معلومات“ جس میں اس بدبخت اور دیگر پارٹی ارکان نے نبی پاک علیہ وسلم اور اماں عائشہ سلام اللہ علیہ کے پاکیزہ رشتہ ازدواج، اماں عائشہ سلام علیکہ کی کم عمری میں نکاح پر اعتراض کرتے ہوئے ناقابل بیان گستاخی کی۔(گستاخی کے الفاظ بوجوہ ذکرنہیں کئے جارہے) اس بدبخت گستاخ خاتون Sussane Winter نے منعقدہ سیمنار میں ہمارے عزتوں والے نبی علیہ السلام کی شان میں گھٹیا بازاری زبان استعمال کی ۔مقصد توہین رسالت کو آسٹریا کےمعاشرےمیں عام کرکے اسلام مخالف سیاسی مفادات کا حصول تھا۔ گستاخی پر مبنی ان سخت الفاظ و گھٹیا اعتراضات پر مسلمان بہت دلگرفتہ ہوئے چناچہ آسٹریا کے مقامی غیورمسلمانوں کی جانب سے آسٹریا کی عدالت میں Sussane Winter کے خلاف کیس کر دیا گیا۔ آسٹریا کی عدالت نے سارا مدعا سن کر حقائق کے مطابق 22 جنوری، 2011 مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دے دیا. عدالت نے قرار دیا کہ نبی پاک علیہ وسلم کی نسبت جملے بازی سیمینار کا بیانیہ توہین پیغمبرکے زمرےمیں آتا ہے۔عدالت نے گستاخ خاتون Sussane Winter کو 480 یورو(586 ڈالر) بمعہ خرچ مقدمہ جرمانہ کر دیااور اس بدبخت خاتون کو اصولوں کی تحقیر کا مجرم قرار دیا۔ یہ بدبخت فیصلہ نہ مانی اور اس نے ”آسٹرین اپیل کورٹ“ میں کیس کر دیا۔ اس عدالت نے بھی فیصلے کی توثیق کردی تو یہ بدبخت آسٹریا کی سپریم کورٹ میں یہ کیس لے گئی سپریم کورٹ آف آسٹریا کی جانب سے بھی پہلا فیصلہ ہی برقرار رکھا گیا۔ مسلمان آسٹریا کی ہر عدالت میں سرخرو ہوتے گئے۔اب کچھ بن نہ پڑا توخاتون ”یورپی عدالت انصاف برائے انسانی حقوق“ پہنچ گئی۔ آئیں اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ ”یورپی عدالتِ انصاف برائے انسانی حقوق“ ہے کیا اور یہ کام کرتی کیسے ہے. یہ عدالت یورپی یونین کے تحت کام کرتی ہے اس کا کام یورپی افراد یا ملکوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں جاری کردہ مقدمات پر فیصلے سنانا ہے۔ یہ یورپین کنوینشن برائے انسانی حقوق کے تحت فیصلے کیا کرتی ہے جس پر 47 ممالک نے دستخط کر رکھے ہیں عدالت کٗل 47 ججز پر مشتمل ہے ان ججز کے نام یورپی یونین کے رکن ممالک تجویز کرتے ہیں جب کے ان کا انتخاب کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی کرتی ہے۔ آسٹرین گستاخ سیاست دان Sussane Winter نے یورپی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے درخواست میں دعویَ کیا کہ اس کے ملک آسٹریا کی مقامی عدالتوں نے اس کے آزادی اظہار رائے کے بنیادی حقوق کی شق نمبر 10 کی خلاف ورزی کی ہے۔ اب میں آپ کو بتاتا ہوں انسانی حقوق کی شق نمبر 10 کے بارےمیں، اس شق نمبر 10 کے دو حصے ہیں پہلے حصے کے تحت ہر کسی کو آزادی اظہار رائے کاحق حاصل ہے جس میں جکومت کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ مگر اسی 10 نمبر شق کے دوسرے حصے میں آزادی اظہار پر کچھ قدغنیں بھی لگائی گئی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ آزادی اظہار رائے کے ساتھ ساتھ فرائض و حقوق بھی شامل ہیں اور یہ آزادی کسی جمھوری معاشرے کے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے رسومات ، حالات، ضوابط کے ماتحت اور اس کی آڑ میں کسی کے بھی جذبات مجروح نہیں کئے جاسکتے۔ بدبخت خاتون سیاست دان نے شق 10 کے پہلے حصے کو عدالت کے سامنے رکھتے ہوئےفیصلہ چاہا مگر عدالت نے فیصلہ شق کے دوسرے حصے کے مطابق دیا۔ رواں ہفتے میں جاری کیا جانے والا فیصلہ یورپی عدالت کے 7 ججز نے مشترکہ طور پر صادر کیا ہے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خاتون کے سیمینار میں کہےگئےکلمات و بیانات معروضی بحث کی جائزحدود سے تجاوزکرتےہیں اس لئےاسے پیغمبراسلام پر حملہ قرار دیا جاسکتا ہے اس سے تعصب کو ہوا ملتی ہے۔ شق نمبر 10 کے تحت خاتون سیاست دان کی کسی حق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی عدالت نے واضح کیا ہے کہ آزادیِ اظہار کی آڑ میں توہین رسالت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ آزادی اظہار یہ نہیں کہ مسلمانوں کی دل آزاری کی جائے۔ یورپی عدالت نے اس کیس کے حوالے سے آسٹریا کی عدالتوں کے فیصلوں کی توثیق و تائید کرتے ہوئے درج کیا ہے کہ آسٹریا کی عدالتوں نے سائلہ Sussane Winter کے بیانات کا بھرپور جائزہ لیا اور آزادی اظہار اور دوسروں کے مذہبی جذبات و احساسات کے تحفظ کےحق کا بڑی احتیاط سے توازن رکھا۔ عدالتوں نے آسٹریا میں مذہبی امن و امان برقرار رکھنے کے جائز حق کی پاسداری کی ہے ۔عدالت نے آزادی اظہار کی آڑمیں نبی پاک علیہ وسلم کی توہین کو مذہبی انتشار و فساد کا باعث قرار دیا ہے۔ قارئین آسٹریا کی سیاست دان Sussane Winter ایک ملک گیر اسلام مخالف سیاسی تنظیم کے پلیٹ فارم سے دنیا بھر کے مخالفین اسلام کو بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر حملوں کے لئے اکسا رہی تھی. اس اصولی فیصلے سے آزادیِ اظہار رائے یا انسانی حقوق کی آڑ میں توہین رسالت کی ناپاک جسارت کرنے والی بدبخت خاتون اور اسکی تنظیم کے عزائم الحمدللہ خاک میں مل گئےہیں ۔پورے یورپ کے گستاخان رسول علیہ وسلم کو انہی کی اپنی عدالت کے زریعے پیغام پہنچ گیا ہے۔ فساد و انتشار کے سبب کو عدالت نے اب یورپ بھر میں فکس کردیا ہے۔ یورپی میڈیا نے اس خبر کو خصوصی کوریج دی ہے۔ کئی یورپی صحافیوں نےاس پر کالم لکھےہیں۔ مسلمانان عالم میں اس فیصلے سے طمانیت کی لہر دوڑ گئی ہے۔ نبی پاک علیہ السلام کی حرمت و ناموس کے تحفظ کے لئے کوشاں ان آسٹرین مسلمانوں کو خراج عقیدت پیش کیا جانا چاہئے جنہوں نے قاضیانِ مغرب سے منوا لیا ہے کہ نبی پاک علیہ السلام کی بے حرمتی آزادی اظہار یا انسانی حقوق کے نام پر قطعی نہیں کی جاسکتی۔ اس فیصلے سے کسی حد تک یہ امید ہوئی ہے کہ آئندہ انسانی حقوق کی آڑ میں ایسی کوئی بھی قبیح حرکت کی گئی تو یورپ کی عدالتیں مسلمانوں کو انصاف دیں گی۔ اس فیصلے میں پاکستانی طحہ چیمہ عطاری بھائی کا بہت بڑا ہاتھ ہے یورپی یونین میں اس ناموس رسالت کے حوالے سے قرادارد پیش کرنے اور معاملہ یورپی یونین میں اُٹھانے کا سہرا طحہ چیمہ عطاری بھائی کا ہے یہ اس وقت جرمنی کی یوتھ پارلیمنٹ کے ممبر اور دعوت اسلامی کے مدنی عالم سے آن لائن درس نظامی بھی پڑھ رہے ہیں۔ الحمدلله طحہ چیمہ عطاری بھائی کی تقریر نے جرمن پارلیمنٹ کو بہت حد متاثر کیا کہ یورپین یونین تک ناموس رسالت کا معاملہ پہنچا طحہ چیمہ عطاری بھائی کو یورپی یونین میں قراردارد پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ یورپی یونین کی عدالت کی خاتون سربراہ سے طحہ چیمہ عطاری بھائی کی ملاقات بھی اسی ضمن میں فیصلے سے کچھ روز قبل ہوئی جس میں انہوں نے تمام مسلمانان عالم کا موقف وضاحت سے پیش کیا۔ جرمن اسمبلی میں بھی طحہ عطاری کی جانب سے قراردارد میں تمام انبیاء کی گستاخی سے متعلق نکات بھی پیش کیے گئے۔ہم جرمن یوتھ پارلیمنٹ ممبر ممبرجناب طحہ چیمہ عطاری بھائی کو اس اہم کامیابی پر دل کی گہرائی سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اللہ سے دعاہے کہ گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت عطافرمائے ناموس رسالت پر حملے کرنے والے بے غیرت اگر اب بھی باز نہ ائیں تو انہیں ابولہب والی موت عطا فرمائے ۔ ہم عشاقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ناموس رسالت پر یورپ کا جدید طرز سے مقابلہ کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ صاحبان عشق کے لئے عرض ہے ہر پلیٹ فارم پر ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے لئے ڈٹے رہئے اللہ پاک اگر یورپ کی عدالتوں میں سرکار عالی وقار کی عزت ناموس کو بلند رکھنے کے لئے آسٹریا کے نہتے عشاق کی مدد کر سکتا ہے اور وہاں انصاف ہو سکتا ہے تو ہرجگہ ہر عاشق کے لئے ایسا ممکن ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم اخلاص کےساتھ اللہ کریم کی مدد کےزریعے ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے کام کرتے رہیں۔ لبیک یارسول اللہ تحقیق و تحریر از محمد عثمان صدیقی میڈیا ریسرچ اینالسٹ

majburi aur faida

majburi aur faida

sulook aur insaan