ads 1

Monday, October 29, 2018

Shauq e Il


شوقِ علم ۔ حضرت سیّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تعلیم و تربیت کے بارے میں ایک کتاب میں لکھا ہے کہ جس پاکیزہ فطرت ماں کی آغوش میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پرورش پائی اس کی زبان ذکرِ الٰہی میں مصروف اور دل جلوۂ حق سے سرشار رہتا تھا ۔ اس لئے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ابتدائے عمر ہی سے بڑی مُحتَاط ا ور پاکیزہ زندگی گزاری۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو بچپن ہی سے عبادت کا شَوق تھا۔نیک والدین کی تربیت نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اخلاق کو شروع ہی سے پاکیزگی کے سانچے میں ڈھال دیا تھا ۔ہوش سنبھالتے ہی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو تعلیم کے لئے مکتب میں بٹھا دیا گیا ۔ حُرُوف شَنَاسِی کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے قرآنِ پاک مکمل پڑھ لیا۔ (اللہ کے خاص بندے ،ص۴۵۹ ) ۔ حضرتداتا گنج بخش علی ہجویریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بچپن ہی سے محنت وجانفشانی کےساتھ علمِ دین حاصل کرنا شروع کر دیا تھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ حصولِ علم میں اتنےمشغول رہتے کہ نہ تو کھانے پینے کا خیال رہتا اور نہ ہی گر د و پیش کی خبر ۔چنانچہ حضرت خواجہ مستان شاہ کابلیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالغَنِی فرماتے ہیں:جن کا دل اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف مُتَوَجّہ ہو وہ دنیا کی نعمتوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے ۔ حضرت سیدنا علی بن عثمان ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سلطان محمود غزنوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے قائم کردہ دینی مدرسہ میں تقریباً بارہ تیرہ سال کی عمر میں زیرِ تعلیم تھے۔حصولِ علم کے جَذبہ سے سَرشار تعلیم میں اتنا مَحَو (یعنی مشغول) ہوتےکہ صَبْح سے شام ہو جاتی مگر پانی تک پینے کی فرصت نہ ملتی ۔رِضوان نامی سفید ریش بزرگ اس مدرسہ کے مُدَرِّس تھے ۔ وہ اپنے اس خاموش طبع طالِبِ علم کو تکریم کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔( اللہ کے خاص بندے ،ص۴۵۹ ) ۔ کتاب: فیضانِ داتاعلی ہجویری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ . صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

No comments:

Post a Comment

sulook aur insaan