ads 1

Saturday, September 15, 2018

Hazrat Maalik bin Auf ka Naatia Qaseedah



حضرت مالک بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مسلمان ہو کر حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حضور ﷺ کے سامنے ایک نعتیہ قصیدہ پڑھا 
(۱)ما ان رایت ولا سمعت بواحد فی الناس کلہم کمثل محمدٖ
(۲) او فی فاعطٰی للجزیل لمجتدی ومتٰی تشاء یخبرک عما فی غدٖ
(۳) واذا الـکـتـیبۃ غردت ابناؤہا بالسمہری وضرب کل مہندٖ
(۴) فـکـانـہٗ لـیـث عـلٰی اشـبالـہٖ وسط الاناء ۃ حادر فی مرصدٖ
(۱) میں نے تمام لوگوں میں کوئی ایک شخص محمد ﷺ کی مثل نہ آنکھ سے دیکھا نہ کان سے سنا۔
(۲) انہوں نے وعدہ پورا فرمایا اور حاجت مند کو عطائے کثیر سے نوازا (اور اے مخاطب) جب تو چاہے تو تجھے ما فی غد (ہر آئندہ ہونے والے واقعہ) کی خبر دیں گے۔
(۳) اور جب لشکر کے سپاہی خوشی اور طرب میں گانے گاتے ہوئے مضبوط نیزوں اور ہندی تلواروں کی ضرب کے ساتھ حملہ آور ہوتے ہیں۔
(۴) گویا وہ رسول اللہ ﷺ (اپنے غلاموں پر) ایسے ہوتے ہیں جیسے بہادر شیر اپنے بچوں پر۔ وہ پورے حلم و وقار کے درمیان اپنی نگہبانی کے مقام پر نہایت قوی اور مضبوط رہتے ہیں۔ فقال لہ خیرا وکساہ حلۃ
حضور ﷺ نے یہ نعتیہ اشعار سن کر مالک بن عوف صحابی کے حق میں کلماتِ خیر فرمائے اور انہیں حلہ پہنایا۔ 
قصیدہ امام ابن حجر عسقلانی صاحب فتح الباری رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور کتاب (الاصابہ جلد ۳ ص ۳۳۲)

#Maalik #bin #Auf #naatia #Qaseedah ba #shaan e #Muhammad

Yeh Bil Yaqeen Hussain Hai Manqabat Imam Hussain by Nusrat Fateh Ali khan

Yeh Bil Yaqeen Hussain Hai Manqabat Imam Hussain by Nusrat Fateh Ali khan
#ImamHussain #Manqabat #ImamHusain #IMamHusayn #HussainbinAli #shaheed #Karbala

ALLAH WAALON KI MAJLIS AUR MAHFIL MEIN BAITHA KARO

اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرتے رہو اور اہلِ صدق (کی معیت) میں شامل رہو

یہ ایک نظر آنے والی حقیقت ہے کہ عبادت کا نور چھپا نہیں رہتا بلکہ اجالا بن کر، سپیدہ ءِ سحر کی طرح عابد کے چہرے سے جھلکنے لگتا ہے اور اس کے رخ تاباں کو اتنا دلکش بنادیتا ہے کہ جو ایماندار اسے دیکھتا ہے وہ اسی کا ہوکر رہ جاتا ہے اور بے اختیار اس سے پیار کرنے لگتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب نورِ ایمان، حقیقت بن کر دل کے نہاں خانے میں جلوہ گر ہوتا ہے تو پھر دل کی وسعتوں تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ جسم کے دوسرے اعضاء کو بھی منور کرنا شروع کردیتا ہے۔ نفسانی خواہشات دبتی ہیں تو یہ تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے، یہاں تک کہ عارضِ تاباں اور رخِ زیبا کا ہالہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبادت گزار ایماندار کے چہرے میں بے پناہ جاذبیت ہوتی ہے۔ چونکہ یہ نور رب تعالیٰ کی یاد، خلوص و محبت اور عبادت سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے جو اسے دیکھتا ہے اسے بے اختیار اللہ یاد آجاتا ہے۔ اس لئے اولیاء اللہ کی ایک علامت بیان کی گئی ہے کہ جب ان کی زیارت کی جائے تو اللہ یاد آتا ہے۔
اسی نور کو شرحِ صدر بھی کہا گیا ہے۔ جب مرد مومن کو شرح صدر کی یہ دولت عظمیٰ نصیب ہوتی ہے تو وہ عام ایمانداروں سے ممتاز ہوجاتا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے :
اََفَمَنْ شَرَحَ اﷲُ صَدْرَهُ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهِ فَوَيْلٌ لِّلْقٰسِيَهِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِکْرِ اﷲِ اُولٰـئِکَ فِيْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ.
(الزمر : 22)
’’بھلا، اللہ نے جس شخص کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا ہو تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر (فائز) ہوجاتا ہے، (اس کے برعکس) پس اُن لوگوں کے لیے ہلاکت ہے جن کے دل اللہ کے ذکر (کے فیض) سے (محروم ہوکر) سخت ہوگئے، یہی لوگ کھلی گمراہی میںہیں‘‘۔
کسی کو سال، کسی کو دس سال، کسی کو پچاس سال اور کسی کو زندگی کے آخری لمحات میں میسر آتا ہے۔ یہ اپنے اپنے نصیب اور قابلیت کی بات ہے۔ کسی اللہ کے بندے کی صحبت اور سنگت اس مقصد کے لئے تریاق ہے۔ کبھی پل بھر میں یہ نعمت عظمیٰ عطا کردیتی ہے اورصدیوں کا سفر لمحوں میں طے ہوجاتا ہے، اسی لئے قرآن پاک نے ان کی سنگت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے کہ
يٰايُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اﷲَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ.
’’اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرتے رہو اور اہلِ صدق (کی معیت) میں شامل رہو‘‘۔
(التوبة : 119)
یک زمانہ صحبتے با اولیاء
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىَ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ وَعَلَىَ آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِماً كَثِيراً

IMAAN KE teen darajaat hain



عین الیقین کے درجے میں اس کے ایمان میں مضبوطی اور قوت آجاتی ہے وہ لازوال حقائق کو اپنی آنکھوں کے سامنے بے حجاب دیکھ کر اور سربستہ اسرار کا مشاہدہ کرکے، شکوک و شبہات کی بدولت بے یقینی کی دلدل میں پھنسنے کے خطرے سے محفوظ ہوجاتا ہے اور اہل زیغ کے لئے ممکن نہیں رہتا کہ اسے بھٹکاسکیں اور مشاہدے کی بدولت حاصل ہونے والی ایمان کی قوت زائل کرسکیں۔
حق الیقین کے درجے میں خود اس کی ذات پر واردات طاری ہوتی ہیں۔ وہ صرف مشاہدہ ہی نہیں کرتا بلکہ آزماتا بھی ہے بذات خود اس مرحلے (Process) سے گزرتا ہے، اسے اطمینان کی وہ کیفیت نصیب ہوتی ہے جہاں کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ تمام وساوس و خطرات اور شکوک و شبہات اس منزل سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور مومن اسرار کی اس دنیا میں داخل ہوجاتا ہے جہاں حقائق خود بولتے ہیں۔ چند مثالوں سے ان درجات و کیفیات کی وضاحت کی جاتی ہیں۔
1۔ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
میں اس شخص کو پہچانتا ہوں جسے سب سے آخر میں، دوزخ سے نکالا جائے گا وہ باہر آکر دوزخ سے کہے گا، رب کا شکر ہے کہ اس نے مجھے تجھ سے نجات دی۔
پھر عرض کرے گا : یااللہ! دوزخ کا منظر بہت خوفناک ہے، اسے میری نظروں سے اوجھل کردے اور جنت کا منظر دکھادے۔
چنانچہ دوزخ اوٹ میں چلی جائے گی اور جنت اپنی تمام تر رعنائیوں اور دائمی بہاروں کے ساتھ اس کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی۔ وہ باغ جنت کا شاندار منظر دیکھ کر باغ باغ ہوجائے گا۔ پھر ایک موقعہ پر عرض کرے گا : یااللہ! مجھے اس جنت کے قریب کردے تاکہ میں اس کے مناظر دیکھ سکوں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا : اے بندے تو اس کے بعد اور سوال داغ دے گا؟ بندہ عرض کرے گا میرے پاک معبود! نہیں، میں اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ وہ پکے عہد و پیمان کرکے جنت کے قریب چلا جائے گا۔ ایک موقعہ پر پھر اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے گا اور عرض کرے گا۔ یا اللہ! مجھے جنت کے دروازے تک پہنچادے، اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا۔
ارشاد ہوگا : تو نے پہلے وعدہ کیا تھا کہ مزید سوال نہیں کروں گا۔ وہ عرض کرے گا : مالک! بس یہ سوال پورا کردے اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ وہ از سر نو، عہد و پیماں کرے گا اور اسے جنت کے دروازے کے قریب کردیا جائے گا۔ وہ جنت کے لہلہاتے درخت، چہکتے پرندے، بہتی نہریں، خوش رنگ پھول، خوشبو کے جھونکے، زمردیں سبزہ، لٹکتے ہوئے پھل، دودھ و شہد کی نہریں، نفیس کھانے، خوبصورت مکین اور حسین ترین ماحول دیکھ کر پھر بے قرار ہوجائے گا اور عرض کرے گا : یا اللہ! مجھے جنت میں داخل کردے۔ ارشاد ہوگا : بندے تو نے تو کچھ اور نہ مانگنے کا پکا وعدہ کیا تھا۔
بندہ اپنے رب کی رحمت پر ناز کرتے ہوئے عرض کرے گا : میرے اللہ! جنت میں داخل نہ ہونا تو بڑے بدبختی ہے۔ ان نعمتوں کو دیکھ لینے کے بعد ان سے محروم رہنا نہیں چاہتا۔ لہذا میری ذات سے بدبختی کے آثار مٹادے اور مجھے اس میں داخل کردے۔ اپنے بندے کی اس گذارش اور حسن طلب پر، مالکِ حقیقی خوش ہوگا، بندے کے لاڈ پیار اور عاجزانہ اصرار پر ہنسے گا (اپنی شان کے لائق) اور محبت سے فرمائے گا :
اے ابن آدم! تجھے صبر نہیں آئے گا، آ، ہم تجھے نوازتے ہیں۔ پھر اسے جنت میں داخل کردیا جائے گا اور حکم ہوگا کہ جس جس چیز کی خواہش ہے مانگ لو! وہ اپنی بساط کے مطابق مانگے گا مگر اسے دنیا سے بھی دگنی یا دس گنا جنت عطا کردی جائ
ے گی اور وہ اس میں سکونت پذیر ہوجائے گا۔
جنت، ایمان کے تینوں درجات کی مثال اس طرح بنتی ہے کہ پہلے اس شخص کا علم جنت کے بارے میں صرف علم الیقین کی حد تک تھا، جب اس نے مناظرِ جنت کو دیکھ لیا تو اسے عین الیقین حاصل ہوگیا اور جب وہ اس میں چلا گیا تو اسے حق الیقین حاصل ہوگیا۔
=====================================
2۔ ایمان کے ان درجات کی دوسری مثال مرنے کے بعد جینے کی ہے۔
سر دست، سب کا علم، علم الیقین کی حد تک ہے کہ ہم میں سے ہر ایک نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک مقتول کو زندہ کیا گیا تھا جس نے اپنے قاتل کی نشان دہی کی تھی۔ جن لوگوں نے اسے اپنی آنکھوں سے زندہ ہوتے دیکھا تھا انہیں عین الیقین حاصل ہوگیا۔
جب لوگ خود مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے تو انہیں حق الیقین حاصل ہوجائے گا۔
عین الیقین اور حق الیقین کی برکت سے انسانوں کو اطمینان قلب نصیب ہوجاتا ہے۔ وہ سینے میں سکون و قرار محسوس کرنے لگ جاتے ہیں اور ان کے دل میں نور کی ایک ایسی شمع روشن ہوجاتی ہے جو انہیں شکوک و شبہات کی تاریکیوں سے نکال کر، صدق و یقین کے اجالوں میں لے آتی ہے اور عزم نو عطا کرتی ہے۔
=====================================
تحریر= نعمان
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىَ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ وَعَلَىَ آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِماً كَثِيراً
ٓ=====================================

HAZRAT UMAR AUR DO NAUJAWAAN


دو نوجوان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی محفل میں داخل ہوتے ہیں۔ محفل میں بیٹھے ایک شخص کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسکی طرف انگلی کر کے کہتے ہیں: "یا عمر یہ ہے وہ شخص"
عمر رضی اللہ عنہ ان سے پوچھتے ہیں: "کیا کیا ہے اس شخص نے ؟"
"یا امیر المؤمنین ۔ اس نے ہمارے باپ کو قتل کیا ہے. "
عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں: "کیا کہہ رہے ہو ۔ اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے ؟"
عمر رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں: " کیا تُو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے ؟"
وہ شخص کہتا ہے: "ہاں امیر المؤمنین ۔ مجھ سے قتل ہو گیا ہے انکا باپ"
عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں: " کس طرح قتل ہوا ہے ؟"
وہ شخص کہتا ہے: "یا عمر ۔ انکا باپ اپنے اُونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا ۔ میں نے منع کیا ۔ باز نہیں آیا تو میں نے ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا "
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: " پھر تو قصاص دینا پڑے گا ۔ موت ہے اسکی سزا "
نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں ۔ نہ ہی اس شخص سے اسکے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے، نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کس قدر شریف خاندان سے ہے، نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ تعلق کسی معزز قبیلے سے تو نہیں، معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے ؟ ان سب باتوں سے بھلا عمر رضی اللہ عنہ کو مطلب ہی کیا ۔ کیونکہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کے نفاذ کے معاملے پر عمر رضی اللہ عنہ کو روک سکتا ہے۔ حتٰی کہ سامنے عمر کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ قاتل کی حیثیت سے آ کھڑا ہو ۔ قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا۔
وہ شخص کہتا ہے : "اے امیر المؤمنین ۔ اُس کے نام پر جس کے حُکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں، مجھے صحرا میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس جانے دیجئے تاکہ میں ان کو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے ۔ میں اسکے بعد واپس آ جاؤں گا"
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "کون تیری ضمانت دے گا کہ تو صحرا میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟"
مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی ایسا نہیں ہے جو اسکا نام تک بھی جانتا ہو۔ اسکے قبیلے، خیمے یا گھر وغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے ۔ کون ضمانت دے اسکی ؟ کیا یہ دس درہم کے ادھار یا زمین کے ٹکڑے یا کسی اونٹ کے سودے کی ضمانت کا معاملہ ہے ؟ ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔ اور کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمر رضی اللہ عنہ سے اعتراض کرے یا پھر اس شخص کی سفارش کیلئے ہی کھڑا ہو جائے۔ اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔
محفل میں موجود صحابہ پر ایک سناٹا چھا گیا ہے۔ اس صورتحال سے خود عمر رضی اللہ عنہ بھی متأثر ہیں۔ کیونکہ اس شخص کی حالت نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔ کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کیلئے چھوڑ دیئے جائیں ؟ یا پھر اسکو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا جائے؟ واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا۔
خود عمر رضی اللہ عنہ بھی سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ اس صورتحال پر سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں: "معاف کر دو اس شخص کو"
نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں : "نہیں امیر المؤمنین ۔ جو ہمارے باپ کو قتل کرے اسکو چھوڑ دیں، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا"
عمر رضی اللہ عنہ ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں: "اے لوگو ! ہے کوئی تم میں سے جو اس کی ضمانت دے؟"
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں : "میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی۔"
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "ابوذر ! اس نے قتل کیا ہے"
ابوذر رضی اللہ عنہ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں: "ہاں ! چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو"
عمر رضی اللہ عنہ : "جانتے ہو اسے ؟"
ابوذر رضی اللہ عنہ : "نہیں جانتا"
عمر رضی اللہ عنہ: "تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو ؟"
ابوذر رضی اللہ عنہ : "میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں اور مجھے ایسا لگتا ہے یہ جھوٹ نہیں بول رہا ۔ ان شاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا "
عمر رضی اللہ عنہ : "ابوذر دیکھ لو۔ اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تمہاری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا "
ابوذر رضی اللہ عنہ اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں: " امیر المؤمنین ! پھر اللہ مالک ہے"
عمر رضی اللہ عنہ سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے ۔ کچھ ضروری تیاریوں کیلئے، بیوی بچوں کو الوداع کہنے کیلئے، اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے اور پھر اس کے بعد قصاص کی ادائیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر واپس آنے کیلئے۔
اور پھر تین راتوں کے بعد عمر رضی اللہ عنہ بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے ۔ انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا۔ عصر کے وقت شہر میں منادی پھر جاتی ہے ۔ نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے ۔ ابوذر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔
عمر رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں: " کدھر ہے وہ آدمی ؟"
ابوذر رضی اللہ عنہ مختصر جواب دیتے ہیں: "مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین"
ابوذر رضی اللہ عنہ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں معمول سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ محفل میں ھُو کا عالم ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے ۔
یہ سچ ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں بستے ہیں، عمرؓ رضی اللہ عنہ سے ان کے جسم کا ٹکڑا مانگیں تو عمر رضی اللہ عنہ دیر نہ کریں، کاٹ کر ابوذر رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیں ۔ لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے ۔ اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے ۔ کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا ۔ نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے ۔ حالات و واقعات کے مطابق نہیں اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔
مغرب سے چند لحظات پہلے وہ شخص آ جاتا ہے ۔ بے ساختہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے۔ ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے۔
عمر رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں: "اے شخص ! اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا۔ نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا "
وہ بولا : " امیر المؤمنین ! اللہ کی قسم ، بات آپکی نہیں ہے۔ بات اُس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے ۔ دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں ۔ اپنے بچوں کو پرندوں کے چوزوں کی طرح صحرا میں تنہا چھوڑ کر ۔ جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان ۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں ۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے"
عمر رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر کے پوچھا: " ابوذر ! تُو نے کس بنا پر اسکی ضمانت دے دی تھی ؟"
ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: " اے عمر ! مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے"
سیدنا عمرؓ نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دو نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا کہتے ہو اب؟
نوجوانوں نے، جن کا باپ مرا تھا، روتے ہوئے کہا: "اے امیر المؤمنین ! ہم اس کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں ۔ ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے"
عمر رضی اللہ عنہ "اللہ اکبر" پکار اُٹھے اور آنسو ان کی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گرنے لگے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرمايا :
"اے نوجوانو ! تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے"
"اے ابوذر ! اللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے"
"اور اے شخص ! اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے"
--------------------
اور اے امیر المؤمنین ! اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے۔۔!!
فارسی شعر کا ترجمعہ
میں نے کہا ہم تو محض بندے ہیں ، تو اُس نے کہا چپ رہو تمہیں کیا معلوم کہ بندے کس مرتبے کے ہوتے ہیں؟

JUNAID E BAGHDADI BY SHEIKH SAADI

جنید بغدادیؒ بیابان میں جا رہے تھے کہ ایک کتا نظر آیا جو بھوک سے مر رہا تھا۔ جنیدؒ نے زادِ راە میں سے نصف اُسے کھلا دیا اور وە اُٹھ بیٹھا:

شنیدم کہ می رفت و خوں می گریست
ندانم کہ بہتر زما ہر دو کیست

سنا ہے جنیدؒ جا رہے تھے اور رو رو کر کہہ رہے تھے نہ جانے ہم دونوں میں سے بہتر کون ہے

ازیں بر ملاک شرف یافتند
کہ خود را بہ از سگ نہ پند اشتند

یہ لوگ فرشتوں سے بھی اُونچا مقام رکھتے تھے۔ کیونکہ اپنے آپ کو کُتے سے بھی بہتر نہیں سمجھتے تھے

شیخ سعدی شیرازیؒ

Imam Hussain by Mufti Akhtar Raza KHan

شجاعت ناز کرتی ہے جلالت ناز کرتی ہے وہ سلطانِ زماں ہیں ان پہ شوکت ناز کرتی ہے صداقت ناز کرتی ہے امانت ناز کرتی ہے حمیت ناز کرتی ہے مروت ناز کرتی ہے شہ خوباں پہ ہر خوبی و خصلت ناز کرتی ہے کریم ایسے ہیں وہ ان پر کرامت ناز کرتی ہے
Shujaat Naaz Karti hai Manqabat Imam Hussain by Mufti Akhtar Raza Khan Hindiجہانِ حسن میں بھی کچھ نرالی شان ہے ان کی نبی کے گل پہ گلزاروں کی زینت ناز کرتی ہے شہنشاہِ شہیداں ہو، انوکھی شان والے ہو حسین ابن علی تم پر شہادت ناز کرتی ہے بٹھا کر شانۂ اقدس پہ کردی شان دوبالا نبی کے لاڈلوں پر ہر فضیلت ناز کرتی ہے

Dunya ko Teen Talaaq do


طلق الدنيا ثلاثا
واتخذ زوجا سواها
أنها زوجة سوء
لا تبالي من اتاها
دنیا کو تین طلاقیں دو
اور اسکے سوا کسی اور کو بیوی بناو
کیونکہ یہ بری بیوی ہے
اسے پرواہ ہی نہیں کہ کون کون آیا

Hazrat Sirri Saqti Teen Cheezon se BAcho

تین چیزوں سے بچو 
امیر لوگوں کے پڑوس سے
بازار میں قرآن پڑھنے والوں سے
حکمرانوں کے رکھے علماء سے
حضرت سری سقطی رحمہ اللہ

sulook aur insaan