ads 1

Saturday, September 15, 2018

JUNAID E BAGHDADI BY SHEIKH SAADI

جنید بغدادیؒ بیابان میں جا رہے تھے کہ ایک کتا نظر آیا جو بھوک سے مر رہا تھا۔ جنیدؒ نے زادِ راە میں سے نصف اُسے کھلا دیا اور وە اُٹھ بیٹھا:

شنیدم کہ می رفت و خوں می گریست
ندانم کہ بہتر زما ہر دو کیست

سنا ہے جنیدؒ جا رہے تھے اور رو رو کر کہہ رہے تھے نہ جانے ہم دونوں میں سے بہتر کون ہے

ازیں بر ملاک شرف یافتند
کہ خود را بہ از سگ نہ پند اشتند

یہ لوگ فرشتوں سے بھی اُونچا مقام رکھتے تھے۔ کیونکہ اپنے آپ کو کُتے سے بھی بہتر نہیں سمجھتے تھے

شیخ سعدی شیرازیؒ

No comments:

Post a Comment

sulook aur insaan