عین الیقین کے درجے میں اس کے ایمان میں مضبوطی اور قوت آجاتی ہے وہ لازوال حقائق کو اپنی آنکھوں کے سامنے بے حجاب دیکھ کر اور سربستہ اسرار کا مشاہدہ کرکے، شکوک و شبہات کی بدولت بے یقینی کی دلدل میں پھنسنے کے خطرے سے محفوظ ہوجاتا ہے اور اہل زیغ کے لئے ممکن نہیں رہتا کہ اسے بھٹکاسکیں اور مشاہدے کی بدولت حاصل ہونے والی ایمان کی قوت زائل کرسکیں۔
حق الیقین کے درجے میں خود اس کی ذات پر واردات طاری ہوتی ہیں۔ وہ صرف مشاہدہ ہی نہیں کرتا بلکہ آزماتا بھی ہے بذات خود اس مرحلے (Process) سے گزرتا ہے، اسے اطمینان کی وہ کیفیت نصیب ہوتی ہے جہاں کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ تمام وساوس و خطرات اور شکوک و شبہات اس منزل سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور مومن اسرار کی اس دنیا میں داخل ہوجاتا ہے جہاں حقائق خود بولتے ہیں۔ چند مثالوں سے ان درجات و کیفیات کی وضاحت کی جاتی ہیں۔
1۔ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
میں اس شخص کو پہچانتا ہوں جسے سب سے آخر میں، دوزخ سے نکالا جائے گا وہ باہر آکر دوزخ سے کہے گا، رب کا شکر ہے کہ اس نے مجھے تجھ سے نجات دی۔
پھر عرض کرے گا : یااللہ! دوزخ کا منظر بہت خوفناک ہے، اسے میری نظروں سے اوجھل کردے اور جنت کا منظر دکھادے۔
چنانچہ دوزخ اوٹ میں چلی جائے گی اور جنت اپنی تمام تر رعنائیوں اور دائمی بہاروں کے ساتھ اس کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی۔ وہ باغ جنت کا شاندار منظر دیکھ کر باغ باغ ہوجائے گا۔ پھر ایک موقعہ پر عرض کرے گا : یااللہ! مجھے اس جنت کے قریب کردے تاکہ میں اس کے مناظر دیکھ سکوں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا : اے بندے تو اس کے بعد اور سوال داغ دے گا؟ بندہ عرض کرے گا میرے پاک معبود! نہیں، میں اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ وہ پکے عہد و پیمان کرکے جنت کے قریب چلا جائے گا۔ ایک موقعہ پر پھر اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے گا اور عرض کرے گا۔ یا اللہ! مجھے جنت کے دروازے تک پہنچادے، اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا۔
ارشاد ہوگا : تو نے پہلے وعدہ کیا تھا کہ مزید سوال نہیں کروں گا۔ وہ عرض کرے گا : مالک! بس یہ سوال پورا کردے اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ وہ از سر نو، عہد و پیماں کرے گا اور اسے جنت کے دروازے کے قریب کردیا جائے گا۔ وہ جنت کے لہلہاتے درخت، چہکتے پرندے، بہتی نہریں، خوش رنگ پھول، خوشبو کے جھونکے، زمردیں سبزہ، لٹکتے ہوئے پھل، دودھ و شہد کی نہریں، نفیس کھانے، خوبصورت مکین اور حسین ترین ماحول دیکھ کر پھر بے قرار ہوجائے گا اور عرض کرے گا : یا اللہ! مجھے جنت میں داخل کردے۔ ارشاد ہوگا : بندے تو نے تو کچھ اور نہ مانگنے کا پکا وعدہ کیا تھا۔
بندہ اپنے رب کی رحمت پر ناز کرتے ہوئے عرض کرے گا : میرے اللہ! جنت میں داخل نہ ہونا تو بڑے بدبختی ہے۔ ان نعمتوں کو دیکھ لینے کے بعد ان سے محروم رہنا نہیں چاہتا۔ لہذا میری ذات سے بدبختی کے آثار مٹادے اور مجھے اس میں داخل کردے۔ اپنے بندے کی اس گذارش اور حسن طلب پر، مالکِ حقیقی خوش ہوگا، بندے کے لاڈ پیار اور عاجزانہ اصرار پر ہنسے گا (اپنی شان کے لائق) اور محبت سے فرمائے گا :
اے ابن آدم! تجھے صبر نہیں آئے گا، آ، ہم تجھے نوازتے ہیں۔ پھر اسے جنت میں داخل کردیا جائے گا اور حکم ہوگا کہ جس جس چیز کی خواہش ہے مانگ لو! وہ اپنی بساط کے مطابق مانگے گا مگر اسے دنیا سے بھی دگنی یا دس گنا جنت عطا کردی جائ ے گی اور وہ اس میں سکونت پذیر ہوجائے گا۔
جنت، ایمان کے تینوں درجات کی مثال اس طرح بنتی ہے کہ پہلے اس شخص کا علم جنت کے بارے میں صرف علم الیقین کی حد تک تھا، جب اس نے مناظرِ جنت کو دیکھ لیا تو اسے عین الیقین حاصل ہوگیا اور جب وہ اس میں چلا گیا تو اسے حق الیقین حاصل ہوگیا۔
=====================================
2۔ ایمان کے ان درجات کی دوسری مثال مرنے کے بعد جینے کی ہے۔
سر دست، سب کا علم، علم الیقین کی حد تک ہے کہ ہم میں سے ہر ایک نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک مقتول کو زندہ کیا گیا تھا جس نے اپنے قاتل کی نشان دہی کی تھی۔ جن لوگوں نے اسے اپنی آنکھوں سے زندہ ہوتے دیکھا تھا انہیں عین الیقین حاصل ہوگیا۔
جب لوگ خود مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے تو انہیں حق الیقین حاصل ہوجائے گا۔
عین الیقین اور حق الیقین کی برکت سے انسانوں کو اطمینان قلب نصیب ہوجاتا ہے۔ وہ سینے میں سکون و قرار محسوس کرنے لگ جاتے ہیں اور ان کے دل میں نور کی ایک ایسی شمع روشن ہوجاتی ہے جو انہیں شکوک و شبہات کی تاریکیوں سے نکال کر، صدق و یقین کے اجالوں میں لے آتی ہے اور عزم نو عطا کرتی ہے۔
=====================================
تحریر= نعمان
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىَ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ وَعَلَىَ آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِماً كَثِيراً
ٓ=====================================

No comments:
Post a Comment