ads 1

Saturday, September 15, 2018

ALLAH WAALON KI MAJLIS AUR MAHFIL MEIN BAITHA KARO

اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرتے رہو اور اہلِ صدق (کی معیت) میں شامل رہو

یہ ایک نظر آنے والی حقیقت ہے کہ عبادت کا نور چھپا نہیں رہتا بلکہ اجالا بن کر، سپیدہ ءِ سحر کی طرح عابد کے چہرے سے جھلکنے لگتا ہے اور اس کے رخ تاباں کو اتنا دلکش بنادیتا ہے کہ جو ایماندار اسے دیکھتا ہے وہ اسی کا ہوکر رہ جاتا ہے اور بے اختیار اس سے پیار کرنے لگتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب نورِ ایمان، حقیقت بن کر دل کے نہاں خانے میں جلوہ گر ہوتا ہے تو پھر دل کی وسعتوں تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ جسم کے دوسرے اعضاء کو بھی منور کرنا شروع کردیتا ہے۔ نفسانی خواہشات دبتی ہیں تو یہ تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے، یہاں تک کہ عارضِ تاباں اور رخِ زیبا کا ہالہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبادت گزار ایماندار کے چہرے میں بے پناہ جاذبیت ہوتی ہے۔ چونکہ یہ نور رب تعالیٰ کی یاد، خلوص و محبت اور عبادت سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے جو اسے دیکھتا ہے اسے بے اختیار اللہ یاد آجاتا ہے۔ اس لئے اولیاء اللہ کی ایک علامت بیان کی گئی ہے کہ جب ان کی زیارت کی جائے تو اللہ یاد آتا ہے۔
اسی نور کو شرحِ صدر بھی کہا گیا ہے۔ جب مرد مومن کو شرح صدر کی یہ دولت عظمیٰ نصیب ہوتی ہے تو وہ عام ایمانداروں سے ممتاز ہوجاتا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے :
اََفَمَنْ شَرَحَ اﷲُ صَدْرَهُ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهِ فَوَيْلٌ لِّلْقٰسِيَهِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِکْرِ اﷲِ اُولٰـئِکَ فِيْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ.
(الزمر : 22)
’’بھلا، اللہ نے جس شخص کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا ہو تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر (فائز) ہوجاتا ہے، (اس کے برعکس) پس اُن لوگوں کے لیے ہلاکت ہے جن کے دل اللہ کے ذکر (کے فیض) سے (محروم ہوکر) سخت ہوگئے، یہی لوگ کھلی گمراہی میںہیں‘‘۔
کسی کو سال، کسی کو دس سال، کسی کو پچاس سال اور کسی کو زندگی کے آخری لمحات میں میسر آتا ہے۔ یہ اپنے اپنے نصیب اور قابلیت کی بات ہے۔ کسی اللہ کے بندے کی صحبت اور سنگت اس مقصد کے لئے تریاق ہے۔ کبھی پل بھر میں یہ نعمت عظمیٰ عطا کردیتی ہے اورصدیوں کا سفر لمحوں میں طے ہوجاتا ہے، اسی لئے قرآن پاک نے ان کی سنگت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے کہ
يٰايُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اﷲَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ.
’’اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرتے رہو اور اہلِ صدق (کی معیت) میں شامل رہو‘‘۔
(التوبة : 119)
یک زمانہ صحبتے با اولیاء
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىَ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ وَعَلَىَ آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِماً كَثِيراً

No comments:

Post a Comment

sulook aur insaan