ads 1

Saturday, September 15, 2018

Hazrat Maalik bin Auf ka Naatia Qaseedah



حضرت مالک بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مسلمان ہو کر حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حضور ﷺ کے سامنے ایک نعتیہ قصیدہ پڑھا 
(۱)ما ان رایت ولا سمعت بواحد فی الناس کلہم کمثل محمدٖ
(۲) او فی فاعطٰی للجزیل لمجتدی ومتٰی تشاء یخبرک عما فی غدٖ
(۳) واذا الـکـتـیبۃ غردت ابناؤہا بالسمہری وضرب کل مہندٖ
(۴) فـکـانـہٗ لـیـث عـلٰی اشـبالـہٖ وسط الاناء ۃ حادر فی مرصدٖ
(۱) میں نے تمام لوگوں میں کوئی ایک شخص محمد ﷺ کی مثل نہ آنکھ سے دیکھا نہ کان سے سنا۔
(۲) انہوں نے وعدہ پورا فرمایا اور حاجت مند کو عطائے کثیر سے نوازا (اور اے مخاطب) جب تو چاہے تو تجھے ما فی غد (ہر آئندہ ہونے والے واقعہ) کی خبر دیں گے۔
(۳) اور جب لشکر کے سپاہی خوشی اور طرب میں گانے گاتے ہوئے مضبوط نیزوں اور ہندی تلواروں کی ضرب کے ساتھ حملہ آور ہوتے ہیں۔
(۴) گویا وہ رسول اللہ ﷺ (اپنے غلاموں پر) ایسے ہوتے ہیں جیسے بہادر شیر اپنے بچوں پر۔ وہ پورے حلم و وقار کے درمیان اپنی نگہبانی کے مقام پر نہایت قوی اور مضبوط رہتے ہیں۔ فقال لہ خیرا وکساہ حلۃ
حضور ﷺ نے یہ نعتیہ اشعار سن کر مالک بن عوف صحابی کے حق میں کلماتِ خیر فرمائے اور انہیں حلہ پہنایا۔ 
قصیدہ امام ابن حجر عسقلانی صاحب فتح الباری رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور کتاب (الاصابہ جلد ۳ ص ۳۳۲)

#Maalik #bin #Auf #naatia #Qaseedah ba #shaan e #Muhammad

No comments:

Post a Comment

sulook aur insaan