Quran o Hadith Tauheed o Sunnat Zikre Rasool Zikr e AhleBait Zikre e Sahaba Islamic Information Videos Articles News Muslim Islam
ads 1
Sunday, October 28, 2018
Namoos e Risaalat and European courts - blasphemy law
ناموسِ رسالت اور یورپی عدالت
تحقیق وتحریر از محمد عثمان صدیقی
”یورپی عدالتِ انصاف برائے انسانی حقوق“ کا توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے دو روز قبل ایک اہم فیصلہ آیا 2008 سے اب تک کیس کا پس منظرکیا ہے اس پر مختصر و جامع تحقیق پیش ہے۔ مطالعہ فرمائیں
یورپ کا ملک آسٹریا جہاں کے سرکاری مذہب عیسائیت کے بعد دوسرا بڑاسرکاری مذہب اسلام ہے۔87 لاکھ کی آبادی کے اس ملک میں 6 لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ 60,000 مسلمان بچے وہاں کی رائج جرمن زبان میں اسلامی تعلیمات حاصل کر رہے ہیں۔ آسٹریا میں کم و بیش 200 سے زائد مساجد ہیں جن میں اکثر ترکی کے آئمہ تعینات ہیں۔ اسلام آسٹریا میں تیزی سے پھیل رہا ہے جس پر اسلام مخالف قوتیں ناخوش ہیں اور آئے روز منظم تحریک چلاتی رہتی ہیں۔
آسٹریا میں دو بڑی اسلام مخالف تنظیمات زیادہ متحرک ہیں ایک تو ”جرمن پیگیڈا“ اور دوسری ”فریڈم پارٹی“ پیگیڈا چونکہ آسٹریا میں نئی نئی ہے تو اس کا زیادہ زور نہیں مگر فریڈم پارٹی ملک میں کافی اثر رسوخ رکھتی ہے۔ یہ آسٹریا میں اسلام روکنے کے لئے برسہا برس سے اینٹی امیگریشن اور اینٹی اسلامائزیشن تحریک چلا رہی ہے۔
اس اسلام مخالف تحریک کا اثر حکومت پر بھی اس قدر ہے کہ رواں سال 2018 میں آسٹریا کے موجودہ حکمران چانسلر Sebastian Kurz نے ترکی کی امداد سے چلنے والی 40 مساجد بند کرتے ہوئے آئمہ کو ملک بدر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ Subastian Kurz نے مساجد کی بندش کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ اقدام اسلام کو ناکام بنانے کے لئے کیا گیاہے آسٹریا میں اسلامیت، متوازی معاشرے یا انتہا پسندی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔
تو یہ مختصراً عرض کیا آپکو آسٹریا کے اسلام مخالف حالات کا تناظر اب آتے ہیں یورپی عدالت کے حالیہ فیصلے پر تو صاحبوں آسٹریا میں ہی ایک 61 سالہ اسلام مخالف متعصب خاتون سیاست دان Sussane Winter ہے یہ عرصہ دراز سے آسٹرین معاشرے میں اسلام مخالف متحرک تنظیم ”فریڈم پارٹی“ (جسکا اوپر ذکر کئےجا چکا ہے) کے پلیٹ فارم سے نبی پاک علیہ وسلم کی ذات مبارکہ آپ کی ازدواجی زندگی کے حوالے سے بکواسات کرتی رہی ہے۔
توہین رسالت کے لئے اس نے 2008 اور 2009 میں مختلف جگہوں میں منظم سیمینارز منعقد کروائے۔ جس کا عنوان رکھا گیا ” اسلام کی بنیادی معلومات“ جس میں اس بدبخت اور دیگر پارٹی ارکان نے نبی پاک علیہ وسلم اور اماں عائشہ سلام اللہ علیہ کے پاکیزہ رشتہ ازدواج، اماں عائشہ سلام علیکہ کی کم عمری میں نکاح پر اعتراض کرتے ہوئے ناقابل بیان گستاخی کی۔(گستاخی کے الفاظ بوجوہ ذکرنہیں کئے جارہے) اس بدبخت گستاخ خاتون Sussane Winter نے منعقدہ سیمنار میں ہمارے عزتوں والے نبی علیہ السلام کی شان میں گھٹیا بازاری زبان استعمال کی ۔مقصد توہین رسالت کو آسٹریا کےمعاشرےمیں عام کرکے اسلام مخالف سیاسی مفادات کا حصول تھا۔
گستاخی پر مبنی ان سخت
الفاظ و گھٹیا اعتراضات پر مسلمان بہت دلگرفتہ ہوئے چناچہ آسٹریا کے مقامی غیورمسلمانوں کی جانب سے آسٹریا کی عدالت میں Sussane Winter کے خلاف کیس کر دیا گیا۔
آسٹریا کی عدالت نے سارا مدعا سن کر حقائق کے مطابق 22 جنوری، 2011 مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دے دیا.
عدالت نے قرار دیا کہ نبی پاک علیہ وسلم کی نسبت جملے بازی سیمینار کا بیانیہ توہین پیغمبرکے زمرےمیں آتا ہے۔عدالت نے گستاخ خاتون Sussane Winter کو 480 یورو(586 ڈالر) بمعہ خرچ مقدمہ جرمانہ کر دیااور اس بدبخت خاتون کو اصولوں کی تحقیر کا مجرم قرار دیا۔
یہ بدبخت فیصلہ نہ مانی اور اس نے ”آسٹرین اپیل کورٹ“ میں کیس کر دیا۔
اس عدالت نے بھی فیصلے کی توثیق کردی تو یہ بدبخت آسٹریا کی سپریم کورٹ میں یہ کیس لے گئی سپریم کورٹ آف آسٹریا کی جانب سے بھی پہلا فیصلہ ہی برقرار رکھا گیا۔ مسلمان آسٹریا کی ہر عدالت میں سرخرو ہوتے گئے۔اب کچھ بن نہ پڑا توخاتون ”یورپی عدالت انصاف برائے انسانی حقوق“ پہنچ گئی۔
آئیں اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ ”یورپی عدالتِ انصاف برائے انسانی حقوق“ ہے کیا اور یہ کام کرتی کیسے ہے.
یہ عدالت یورپی یونین کے تحت کام کرتی ہے اس کا کام یورپی افراد یا ملکوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں جاری کردہ مقدمات پر فیصلے سنانا ہے۔
یہ یورپین کنوینشن برائے انسانی حقوق کے تحت فیصلے کیا کرتی ہے جس پر 47 ممالک نے دستخط کر رکھے ہیں عدالت کٗل 47 ججز پر مشتمل ہے ان ججز کے نام یورپی یونین کے رکن ممالک تجویز کرتے ہیں جب کے ان کا انتخاب کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی کرتی ہے۔
آسٹرین گستاخ سیاست دان Sussane Winter نے یورپی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے درخواست میں دعویَ کیا کہ اس کے ملک آسٹریا کی مقامی عدالتوں نے اس کے آزادی اظہار رائے کے بنیادی حقوق کی شق نمبر 10 کی خلاف ورزی کی ہے۔
اب میں آپ کو بتاتا ہوں انسانی حقوق کی شق نمبر 10 کے بارےمیں،
اس شق نمبر 10 کے دو حصے ہیں پہلے حصے کے تحت ہر کسی کو آزادی اظہار رائے کاحق حاصل ہے جس میں جکومت کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ مگر اسی 10 نمبر شق کے دوسرے حصے میں آزادی اظہار پر کچھ قدغنیں بھی لگائی گئی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ آزادی اظہار رائے کے ساتھ ساتھ فرائض و حقوق بھی شامل ہیں اور یہ آزادی کسی جمھوری معاشرے کے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے رسومات ، حالات، ضوابط کے ماتحت اور اس کی آڑ میں کسی کے بھی جذبات مجروح نہیں کئے جاسکتے۔
بدبخت خاتون سیاست دان نے شق 10 کے پہلے حصے کو عدالت کے سامنے رکھتے ہوئےفیصلہ چاہا مگر عدالت نے فیصلہ شق کے دوسرے حصے کے مطابق دیا۔
رواں ہفتے میں جاری کیا جانے والا فیصلہ یورپی عدالت کے 7 ججز نے مشترکہ طور پر صادر کیا ہے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خاتون کے سیمینار میں کہےگئےکلمات و بیانات معروضی بحث کی جائزحدود سے تجاوزکرتےہیں اس لئےاسے پیغمبراسلام پر حملہ قرار دیا جاسکتا ہے اس سے تعصب کو ہوا ملتی ہے۔
شق نمبر 10 کے تحت خاتون سیاست دان کی کسی حق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی عدالت نے واضح کیا ہے کہ آزادیِ اظہار کی آڑ میں توہین رسالت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ آزادی اظہار یہ نہیں کہ مسلمانوں کی دل آزاری کی جائے۔
یورپی عدالت نے اس کیس کے حوالے سے آسٹریا کی عدالتوں کے فیصلوں کی توثیق و تائید کرتے ہوئے درج کیا ہے کہ آسٹریا کی عدالتوں نے سائلہ Sussane Winter کے بیانات کا بھرپور جائزہ لیا اور آزادی اظہار اور دوسروں کے مذہبی جذبات و احساسات کے تحفظ کےحق کا بڑی احتیاط سے توازن رکھا۔ عدالتوں نے آسٹریا میں مذہبی امن و امان برقرار رکھنے کے جائز حق کی پاسداری کی ہے ۔عدالت نے آزادی اظہار کی آڑمیں نبی پاک علیہ وسلم کی توہین کو مذہبی انتشار و فساد کا باعث قرار دیا ہے۔
قارئین آسٹریا کی سیاست دان Sussane Winter ایک ملک گیر اسلام مخالف سیاسی تنظیم کے پلیٹ فارم سے دنیا بھر کے مخالفین اسلام کو بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر حملوں کے لئے اکسا رہی تھی.
اس اصولی فیصلے سے آزادیِ اظہار رائے یا انسانی حقوق کی آڑ میں توہین رسالت کی ناپاک جسارت کرنے والی بدبخت خاتون اور اسکی تنظیم کے عزائم الحمدللہ خاک میں مل گئےہیں ۔پورے یورپ کے گستاخان رسول علیہ وسلم کو انہی کی اپنی عدالت کے زریعے پیغام پہنچ گیا ہے۔ فساد و انتشار کے سبب کو عدالت نے اب یورپ بھر میں فکس کردیا ہے۔ یورپی میڈیا نے اس خبر کو خصوصی کوریج دی ہے۔ کئی یورپی صحافیوں نےاس پر کالم لکھےہیں۔
مسلمانان عالم میں اس فیصلے سے طمانیت کی لہر دوڑ گئی ہے۔
نبی پاک علیہ السلام کی حرمت و ناموس کے تحفظ کے لئے کوشاں ان آسٹرین مسلمانوں کو خراج عقیدت پیش کیا جانا چاہئے جنہوں نے قاضیانِ مغرب سے منوا لیا ہے کہ نبی پاک علیہ السلام کی بے حرمتی آزادی اظہار یا انسانی حقوق کے نام پر قطعی نہیں کی جاسکتی۔ اس فیصلے سے کسی حد تک یہ امید ہوئی ہے کہ آئندہ انسانی حقوق کی آڑ میں ایسی کوئی بھی قبیح حرکت کی گئی تو یورپ کی عدالتیں مسلمانوں کو انصاف دیں گی۔
اس فیصلے میں پاکستانی طحہ چیمہ عطاری بھائی کا بہت بڑا ہاتھ ہے یورپی یونین میں اس ناموس رسالت کے حوالے سے قرادارد پیش کرنے اور معاملہ یورپی یونین میں اُٹھانے کا سہرا طحہ چیمہ عطاری بھائی کا ہے یہ اس وقت جرمنی کی یوتھ پارلیمنٹ کے ممبر اور دعوت اسلامی کے مدنی عالم سے آن لائن درس نظامی بھی پڑھ رہے ہیں۔
الحمدلله طحہ چیمہ عطاری بھائی کی تقریر نے جرمن پارلیمنٹ کو بہت حد متاثر کیا کہ یورپین یونین تک ناموس رسالت کا معاملہ پہنچا طحہ چیمہ عطاری بھائی کو یورپی یونین میں قراردارد پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ یورپی یونین کی عدالت کی خاتون سربراہ سے طحہ چیمہ عطاری بھائی کی ملاقات بھی اسی ضمن میں فیصلے سے کچھ روز قبل ہوئی جس میں انہوں نے تمام مسلمانان عالم کا موقف وضاحت سے پیش کیا۔ جرمن اسمبلی میں بھی طحہ عطاری کی جانب سے قراردارد میں تمام انبیاء کی گستاخی سے متعلق نکات بھی پیش کیے گئے۔ہم جرمن یوتھ پارلیمنٹ ممبر ممبرجناب طحہ چیمہ عطاری بھائی کو اس اہم کامیابی پر دل کی گہرائی سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
اللہ سے دعاہے کہ گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت عطافرمائے ناموس رسالت پر حملے کرنے والے بے غیرت اگر اب بھی باز نہ ائیں تو انہیں ابولہب والی موت عطا فرمائے ۔
ہم عشاقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ناموس رسالت پر یورپ کا جدید طرز سے مقابلہ کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔
صاحبان عشق کے لئے عرض ہے ہر پلیٹ فارم پر ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے لئے ڈٹے رہئے اللہ پاک اگر یورپ کی عدالتوں میں سرکار عالی وقار کی عزت ناموس کو بلند رکھنے کے لئے آسٹریا کے نہتے عشاق کی مدد کر سکتا ہے اور وہاں انصاف ہو سکتا ہے تو ہرجگہ ہر عاشق کے لئے ایسا ممکن ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم اخلاص کےساتھ اللہ کریم کی مدد کےزریعے ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے کام کرتے رہیں۔
لبیک یارسول اللہ
تحقیق و تحریر از محمد عثمان صدیقی
میڈیا ریسرچ اینالسٹ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
-
#dunya #world #bhool #forget #forgot #earth #love #ishq #mustafa Yeh dunya bhool jaati hai ye dunya bhool jaayegi Mahabbat Mustafa ki b...
-
AURAT KI ASL MAHAARAT
No comments:
Post a Comment