پیرو مرشد نے نظرِ کرم پھیرلی:
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اندازِ بے رُخی اور اپنے خاصُ الخاص مرید کی بے قدری کا سن کر حضرت علامہ شاہ محمد عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے چہرہ مبارکہ پر ناراضی کےآثار نمودار ہوئے اور فرمایا: ہم نے آج سے بلھے شاہ کی کیاریوں سے اپنا پانی روک لیا ہے،
بس اتنا کہنےکی دیر تھی کہ حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےلئے قیامت برپا ہوگئی جونہی مرشد کریم نے اپنی نظر ِکرم پھیری آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دل پر چھریاں چل گئی،سر پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، دم بھر میں کیا سے کیا ہوگیا ، ہوش رہا نہ جوش،بہار خزاں میں بدل گئی، اجالا اندھیرے میں اور خوشی غم میں تبدیل ہو گئی۔
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آستانے کا انتظام مرید خاص حضرت سلطان احمد مستانہ کے سپرد فرمایا اور مرکز الاولیاء لاہور تشریف لے آئے بارگاہِ مرشد میں حاضری چاہی
مگریہ کیا ! آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو آنے سے روک دیا گیا کوئی شُنوائی نہ ہوئی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی جان پر بَن آئی،جدائی اور پشیمانی کی حالت نے تڑپا کے رکھ دیا ،چین لُٹ گیا اور قرار مِٹ گیا،
مگرپیرو مرشد نے مرید صادق کوابھی آزمانا تھا آزمائش کی بھٹی میں تپا کر کندن بنانا مقصود تھا جبکہ مرید صادق کی بس یہی چاہت تھی کہ کسی طرح مرشد راضی ہوجائیں میری غلطی کو معاف کردیں اسی حالت میں دروازے پر کھڑے رہتے، دیارِمرشد کی خاک چھانتے رہتے نہ دن کا خیال رہا نہ رات کا، آنے والا ہر لمحہ جدائی کے زخم کو مزید گہرا کرتا جاتا۔
مرشد کیسے راضی ہوئے ؟
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہیہ بات جانتے تھے کہ دادا پیروارثِ فیضانِ محمدی حضرت علامہ سیِّد محمد رضا شاہ قادری شطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے عرس مبارک کا زمانہ قریب ہے اور پیرو مرشد کی عرس پر ضرور حاضری ہوتی ہے چنانچہ جب عرس مبارک شروع ہوا اور حضرت شاہ عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تشریف لائے تو حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے چہرے پر نقاب ڈال کر راہ میں کھڑے ہو گئے اورجھوم جھوم کر دیوانہ وار نہایت پرسوز آواز میں اشعار پڑھنے لگے
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آواز میں بَلا کا درد تھا اشعار میں کلیجے کو چھلنی کردینے والی پکار تھی جب مرشد کریم حضرت شاہ عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے مبارک کانوں میں سوزوگداز میں ڈوبی ہوئی آواز پہنچی اور حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اس درد ناک حالت میں دیکھا تو دل پسیج گیا مرید صادق کو پہچان تو گئے تھے لہذا دل جوئی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا
تم بلھے شاہ ہو؟ مرید صادق حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بس یہی آرزو تھی کہ کسی طرح مرشدِ کریم میری جانب توجہ فرمالیں چنانچہ بے اختیار پیرومرشد کے قدموں میں آگرے اور عرض کرنے لگے :
یا مرشدی ! میں بُلھا نئیں ،بھُلا آں یعنی ’’میں بُھولا ہوا ہوں‘‘
مرشد کریم نے مرید صادق کو دونوں ہاتھوں سے اٹھایا اور کمالِ عنایت و شفقت سے اپنےسینے سے لگا لیا پھر تو رحمت کا بند چشمہ دوبارہ پھوٹ نکلا، سوکھی کیاری کو پھر سے پانی مل گیا، حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زندگی گلِ گلزار ہوگئی ،لطف وسرور کے رنگ برنگے پھولوں سے مہک اٹھی اب مرید کامل فنا فی الشیخ کے مرتبے پر فائز ہوچکا تھا ۔
( سائیں بلھے شاہ ،ص۳۵ تا ۴۰ ملخصاً وغیرہ)
پیرا میں بُھل گئی آں، تیرے نال نہ گئی آں
تیر ے عشق نچا یا کر کے تھیا تھیا
بلھا شاہ نو سَدُو شاہ عنایت دے بوہے
جس نے مینو ں پوائے چولے ساوے تے سوہے
جاں میں ماری ہے اڈی مڑ پِیا ہے رہیا
تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا..

No comments:
Post a Comment