ads 1

Monday, September 3, 2018

Allama Khadim Hussain Rizvi 30-08-2018 Islamabad


Allama Khadim Hussain Rizvi ne Dharna ke ikhtitaam ep kya farmaaya
aap bhi sune aur share karen

MASAAIL KA HAL

مسائل کا شکوہ کرنا آسان یا اُنکا حل آسان؟

کہتے ہیں کہ ایک بار چین کے کسی حاکم نے ایک بڑی گزرگاہ کے بیچوں بیچ ایک چٹانی پتھر ایسے رکھوا دیا کہ گزرگاہ  بند ہو کر رہ گئی۔ اپنے ایک پہریدار کو نزدیک ہی ایک درخت کے پیچھےچھپا کر بٹھا دیا تاکہ وہ  آتے جاتے لوگوں کے ردِ عمل سُنے اور اُسے آگاہ کرے۔ 
اتفاق سے جس پہلے شخص کا وہاں سے گزر ہوا وہ شہر کا مشہور تاجر تھا جس نے بہت ہی نفرت اور حقارت سے سڑک کے بیچوں بیچ رکھی اس چٹان کو دیکھا
 یہ جانے بغیر کہ یہ چٹان تو حاکم وقت نے ہی رکھوائی تھی۔ اُس نے ہر اُس شخص کو بے نقط اور بے حساب باتیں سنائیں جو اس حرکت کا ذمہ دار  ہو سکتا تھا۔
چٹان کے ارد گرد ایک دو چکر لگائے اور چیختے ڈھاڑتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی جا کر اعلیٰ حکام سے اس حرکت کی شکایت کرے گا اور جو کوئی بھی اس حرکت کا ذمہ دار ہوگا اُسے سزا دلوائے بغیر آرام سے نہیں بیٹھے گا۔

اس کے بعد وہاں سے تعمیراتی کام کرنے والے ایک ٹھیکیدار کا گزر ہوا ۔ اُس کا ردِ عمل بھی اُس سے پہلے گزرنے والے تاجر سے مختلف تو نہیں تھا مگر اُس کی باتوں میں ویسی شدت اور گھن گرج نہیں تھی جیسی پہلے والا تاجر دکھا کر گیا تھا۔
آخر ان دونوں کی حیثیت اور مرتبے میں نمایاں فرق بھی توتھا!
اس کے بعد وہاں سے تین ایسے دوستوں کا گزر ہوا جو ابھی تک زندگی میں اپنی ذاتی پہچان نہیں بنا پائے تھے اور کام کاج کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ انہوں نے چٹان کے پاس رک کر سڑک کے بیچوں بیچ ایسی حرکت کرنے والے کو جاہل، بیہودہ  اور گھٹیا انسان سے تشبیہ دی،  قہقہے لگاتے اور ہنستے ہوئے اپنے گھروں کو چل دیئے۔

اس چٹان کو سڑک پر رکھے دو دن گزر گئے تھے  کہ وہاں سے ایک مفلوک الحال اور غریب کسان کا گزر ہوا۔ کوئی شکوہ کیئے بغیر جو بات اُس کے دل میں آئی وہ  وہاں  سے گزرنے والوں کی تکلیف کا احساس تھا اور وہ یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح  یہ پتھر وہاں سے ہٹا دیا جائے۔ اُس نے وہاں سے گزرنے والے راہگیروں کو  دوسرے لوگوں کی مشکلات سے آگاہ کیا اور انہیں جمع ہو کر وہاں سے پتھر ہٹوانے کیلئے مدد کی درخواست کی۔ اور بہت سے لوگوں نے مل کر زور لگاکرچٹان نما پتھر وہاں سے ہٹا دیا۔ 
اور جیسے ہی یہ چٹان وہاں سے ہٹی تو نیچے سے ایک چھوٹا سا گڑھا کھود کر اُس میں رکھی ہوئی ایک صندوقچی نظر آئی جسے کسان نے کھول کر دیکھا تو اُس میں سونے کا ایک ٹکڑا اور
خط رکھا  تھا جس میں لکھا ہوا تھا کہ:
 حاکم وقت کی طرف سے اس چٹان کو سڑک کے درمیان سے ہٹانے والے شخص کے نام۔
جس کی مثبت اور عملی سوچ نے مسائل پر شکایت کرنے کی بجائے اُس کا حل نکالنا زیادہ بہتر جانا۔

کیا خیال ہے ؟
ھم بھی اپنے گردونواح میں نظر دوڑا کر دیکھ لیں، کتنے ایسے مسائل ہیں جن کے حل ہم آسانی سے پیدا کر سکتے ہیں!

محمدقمرالدین نورانی جِلاء

DAATA ALI HAJVERI

ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺷﺨص ﭘﺮ ﺗﻌﺠﺐ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺟﻨﮕﻞ ﻭ ﺻﺤﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﺎﺑﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻃﮯ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺍﻭﺭ ﺣﺮﻡ ﺗﮏ ﺗﻮ ﭘﮩﻨﭽﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺒﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﮨﯿﮟ -ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﮐﯽ ﻭﺍﺩﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻃﮯ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻮﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﮨﯿﮟ- 

“ﮐﺸﻒ ﺍﻟﻤﺤﺠﻮﺏ- ﺩﺍﺗﺎ ﮔﻨﺞ ﺑﺨﺶ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﮨﺠﻮﯾﺮﯼ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ

ebaadat guzaar

ﻧﯿﮏ ﮨﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﮨﮯﺍﻭﺭﻧﻔﺲ ﭘﮧ ﻗﺎﺑﻮ ﮨﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭﺑﺎﺕ!

ﺑﻈﺎﮨﺮ ﯾﮧ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﺟﻤﻠﮧ
ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮩﺖ ﮔﮩﺮﺍئی لیئے
ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮯ۔
کیونکہ نیک انسان کسی وقت براٸ کر سکتا ھے جبکہ جو اپنے نفس پہ قابو پا لے وہ براٸ کیطرف نہیں جاتا بلکہ براٸ خود اس شخص سے دور بھاگتی ھے اور نیکی آگے آتی ھے۔۔

ﻣﺜﻼً

ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﺰﺍﺭ ﺑﻨﺪﮦﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﺎﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﮐﺮﮮ

 ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ
ﻣﻄﻠﺐ ﻧﻔﺲ ﭘﮧ ﻗﺎﺑﻮ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﻟﻤﺒﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽﺟﮭﻮﭦ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺭﮐﮯ
ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﺮ ﮐﮯﻓﻮﻥ ﭘﮧ ﻏﯿﺒﺖ ﺷﺮﻭﻉ
۔
ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ
ﺁﯾﺎﺕ
 ﺳﮯ، ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﻧﺎﭺ ﮔﺎﻧﮯ ﭘﮧ.

ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﺮ ﭘﮭﯿﺮ۔
ﺁﮔﮯ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ
ﺳﻮﭼﯿﮟ۔ ۔۔۔۔

ﺍﻟﻠﻪ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﭘﮧ
ﻗﺎﺑﻮ ﺩﮮ ﺩﮮ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ لیئے
ﻧﺒﯽ کریم ﷺ نے ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭﯼ 
ﺩُﻋﺎئیں ﺳﮑﮭﺎئی ﮨﯿﮟ۔ 
ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﯾﮧ ﮨﮯ۔

ﺍَﻟﻠّٰﻬُﻢَّ ﺍٰﺕِ ﻧَﻔْﺴِﯽْ ﺗَﻘْﻮَﺍﮬَﺎ
ﻭَﺯَﮐِّﮭَﺎ ﺍَﻧْﺖَ ﺧَﻴْﺮُﻣَﻦْ ﺯَﮐَّﺎﮬَﺎ
ﺍَﻧْﺖَ ﻭَﻟِﻴُّﻬﺎ ﻭَ ﻣَﻮْﻟَﺎﮬَﺎ
( ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ، 
ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺬﮐﺮ ﻭﺍﻟﺪّﻋﺎﺀ 
ﻭﺍﻟﺘﻮﺑﺔ ﻭﺍﻻﺳﺘﻐﻔﺎﺭ، 
ﺑﺎﺏ ﻓﯽ ﺍﻻٔﺩﻋﯿﺔ 6906:)

ﺍﮮ ﷲ! ﻣﯿﺮﮮ ﻧﻔﺲ ﮐﻮ
ﺍﺳﮑﺎ ﺗﻘﻮٰﯼ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﺎﮎ ﺭﮐﮫ، ﺗﻮ ﮨﯽ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﭘﺎﮎ ﮐﺮﻧﮯ
ﻭﺍﻻ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻭﻟﯽ
ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻟﯽٰ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﺩﻋﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ
ﻧﻔﺲ ﮐﺎ ﻭﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻻ
ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﮨﮯ۔

ﺫﺭﺍ ﺳﻮچیئے، ﺟﺲ ﺷﺨﺺﮐﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﺎ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ
ﺟﺎﺋﮯ، ﮐﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺑﮩﮑﮯ ﮔﺎ؟
یقیناََ اسے کبھی بہکنے نہیں دے گا۔
نیکی ضرور کریں لیکن ایسی نیکی جو تزکیہ نفس کیطرف ماٸل کرے تاکہ براٸ کو مستقلاََ ختم کیا جا سکے۔۔۔

Baghdad ka Bazaar

بغداد کے بازار میں ایک حلوائی صبح صبح اپنی دکان سجا رہا تھا کہ ایک فقیر آنکلا تو دکاندار نے کہا کہ باباجی آؤ بیٹھو

فقیر بیٹھ گیا تو حلوائی نے گرم گرم دودھ فقیر کو پیش کیا. فقیر نے دودھ پی کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس حلوائی کو کہا کہ بھائی تیرا شکریہ اور یہ کہہ کرفقیرچل پڑا۔

بازار میں ایک فاحشہ عورت اپنے دوست کے ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھ کر موسم کا لطف لے رہی تھی۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی، بازار میں کیچڑ تھا، فقیر اپنی موج میں بازار سے گزر رہا تھا کہ فقیر کے چلنے سے ایک چھینٹا اڑا اورفاحشہ عورت کے لباس پر گر گیا۔ جب یہ منظر فاحشہ عورت کے دوست نے دیکھا تو اسے بہت غصہ آیا۔ وہ اٹھا اور فقیر کے منہ پرتھپڑ مارا اور کہا کہ فقیر بنے پھرتے ہو، چلنے پھرنے کی تمیز نہیں؟

فقیر نے ہنس کر آسمان کی طرف دیکھا اور کہا
مالک تو بھی بڑا بے نیاز ہے، کہیں سے دودھ پلواتا ہے اور کہیں سے تھپڑ مرواتا ہے.. یہ کہہ کر فقیر آگے چل پڑا،

فاحشہ عورت چھت پر جارہی ہوتی ہے تو اس کا پاؤں پھسلتا ہے اور زمین پر سر کے بل گر جاتی ہے، اس کو ایسی شدید چوٹ لگتی ہے کہ موقع پر ہی فوت ہوجاتی ہے۔

شور مچ گیا کہ فقیر نے آسمان کی طرف منہ کر کے بدعا دی تھی، جس کی وجہ سے یہ قیمتی جان چلی گئی

فقیر ابھی بازار کے دوسرے کونے تک نہیں پہنچ پائے تھے کہ لوگوں نے فقیر کو پکڑ لیا اور کہا کہ بڑے فقیر بنے پھرتے ہو، حوصلہ بھی نہیں رکھتے ہو

فقیرنے کہا کہ کیا ہوا میاں؟ لوگوں نے کہا کہ تم نے بددعا دی اور عورت کی جان چلی گئی

فقیرنے کہا کہ واللہ میں نے تو کوئی بددعا نہیں دی تو لوگوں نے ضد کی اور کہا کہ نہیں تیری بددعا کا کیا دھرا ہے۔

جب لوگوں نے ضد کی تو فقیر نے کہا کہ اصل بات پوچھتے ہو تو میں نے کوئی بددعا نہیں کی، یہ یاروں یاروں کی لڑائی ہے.

لوگوں نے کہا کہ وہ کیا؟ فقیر نے کہا کہ جب میں گزر رہا تھا اور میرے پاؤں سے چھینٹا اڑا اور اس عورت کے لباس پر پڑا تو اس کے یار کو غصہ آیا، اس نے مجھے مارا تو پھر میرے یار کو بھی غصہ آگیا..

smart phones

آج بابا جی سے ملاقات ہوئی تو خلاف توقع ان کے ہاتھ میں سمارٹ فون تھا اور وہ وٹس ایپ پہ مسیج لکھ رہے تھے۔ یہ صورتحال میرے لئے نہ صرف نئی تھی بلکہ حیران کن بھی۔ حیران ہوکر پوچھا کہ باباجی لگتا ہے تبدیلی واقعی آگئی ہے۔ اس فضول چیز سے ہم پیچھا چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن چھڑا نہیں پا رہے اور ایک آپ ہیں کہ اس عمر میں نیا شوق پال لیا۔ بابا جی مسکرائے اور کہنے لگے “یہ اتنی بھی بری چیز نہیں۔ میں کافی شاکی تھا اس کے بارے میں لیکن آج اس نے وہ نکتہ بڑی آسانی سے سمجھا دیا جو میں برسوں نہیں سمجھ پایا تھا۔”
میری حیرت میں اضافہ ہوگیا۔ ایسا بھلا کونسا نکتہ ہوسکتا ہے جو باباجی کو سمارٹ فون سے سمجھ آیا۔ درخواست کی کہ تفصیلات بیان فرمائیں تاکہ ہم بھی مستفید ہوسکیں۔
باباجی بولے کہ میں دس بارہ دن سے دوستوں کے ساتھ وٹس ایپ پہ رابطے میں ہوں۔ جو دوست ایک دو دن کیلئے رابطہ نہیں کرتے ان کے نام اور پیغامات بہت نیچے چلے جاتے ہیں اتنے نیچے کہ میرا ہاتھ تھک جاتا ہے سکرول کرتے کرتے۔ اور جو رابطے میں رہتا ہے وہ لسٹ میں سب سے اوپر رہتا ہے۔ عرض کیا کہ ایسا ہی ہوتا ہے اس میں کونسی بڑی بات ہے۔ یہ تو ہمیں سالوں پہلے پتا تھا۔
بابا جی کہنے لگے، تم نے میری بات پہ غور نہیں کیا۔ ہم سب کا ایک رب ہے۔ جب ہم اسکے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اسکو یاد کرتے ہیں اس سے مانگتے رہتے ہیں تو اس کے پاس موجود لسٹ میں ہمارا نام اوپر ہی اوپر رہتا ہے۔ لیکن جیسے ہی ہم اس سے غافل ہوجاتے ہیں لسٹ میں ہمارا نام بہت نیچے چلا جاتا ہے۔ بس میں یہی نکتہ سمجھا ہوں کہ اگر اس کی لسٹ میں نام اوپر رکھنا ہے تو وقتا” فوقتا” اسے کسی نہ کسی طرح یاد کرتے رہنا چاہئے۔

Durood e Paak

حضرتِ سیِّدُنا شَیْخ احمد بن ثابِت 

مَغْرِبی علیہ رحمۃُ اللّٰهِ القوی فرماتے ہیں: 

میں قِبْلہ رُخ بیٹھ کر دُرُود پاک کے موضوع پر مضمون ترتیب دے رہا تھا 

اچانک مجھ پر غُنُودَگی طاری ہوئی
 اور میری آنکھ لگ گئی۔ 

میں نے خواب میں اللّٰه تعالیٰ کے مُقَرَّب فِرِشْتَوں 

حضرتِ سیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلام، 
حضرتِ سیِّدُنا میکائیل عَلَیْہِ السَّلام، 
حضرتِ سیِّدُنا اِسرافیل عَلَیْہِ السَّلام

 اورحضرتِ سیِّدُنا عِزْرائیل 
 عَلَیْہِ السَّلام کی زِیارَت کی۔ 
 (تین مقرب فرشتوں سے گفتگو کا ذکر کرنے کے بعد)

 شیخ احمد بن ثابت 
 رَحمَۃُ اللّٰه تعالٰی علیہ فرماتے ہیں 

میں نے حضرتِ سیِّدُنا عِزْرائیل عَلَیْہِ السَّلام 
سے عَرْض کی 

میں اللّٰه عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے پِیارے حبیب 
صلَّی اللّٰه تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم 
کا واسِطہ دے کر اِلْتِجا کرتا ہوں
 کہ آپ میری جان نکالتے وَقْت مجھ پر نَرْمی فرمائیں۔

 تو حضرتِ سیِّدُنا عِزْرائیل
  عَلَیْہِ السَّلام نے فرمایا: 

رسولِ اَکرم صلَّی اللّٰه تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر کثرت سے دُرُود پاک پڑھا کرو*

(سعادۃ الدارین # صفحه : 124 ملخصاً )

آس ہے کوئی نہ پاس، ایک تمہاری ہے آس
بس ہے یہی آسرا تم پہ کروڑوں دُرود

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰهُ تعالٰی علٰی محمَّد

sulook aur insaan