؟؟ معروف شاعر *جناب جوش ملیح آبادی رح* نے ایک مجلس عزا کا اہتمام کیا تو *ذاکر* نے پیسے مانگ لیے۔
جناب جوش رح کو یہ بات اتنی ناگوار گزری کہ 3 دن تک خاموش چُپ چاپ کمرے میں بند رہے آخر انھوں نے قلم اُٹھایا اور نظم *"ذاکر سے خطاب"* لکھ ڈالی۔
*(سوچ تو اے ذاکر افسردہ طبع نرم خو
آہ تو نیلام کرتا ھے شہیدوں کا لہو-
تاجرانہ مشق ھے مجلس میں تیری ہاؤ ھو
فیس کا دریوزہ ھے منبر پر تیری گفتگو-
عالم اخلاق کو زیر و زبر کرتا ھے تو-
خون اہلیبیت میں لقمے کو تر کرتا ھے تو-
حرص نے تجھ کو سکھایا ھے دنایت کا سبق-
کربلا کے ذکر میں لیتا نہیں کیوں نام حق-
چشمہء دولت ھے تیرا سیل اشک بے قلق-
خوں کی چادر سے بناتا ھے تو سونے کے ورق-
خانہء برباد ھے دولت سرا تیرے لیئے-
اک دفینہ ھے زمین کربلا تیرے لیئے-
کیا بتاؤں کیا تصور تو نے پیدا کر دیا-
غیرت حق کو بھلا کر حق کو رسوا کر دیا-
آب رکنا باد و بستان مصلیٰ کر دیا-
مشق گریہ، عیش کی تمہید ھے تیرے لیئے-
عشرہ ماہ محرم عید ھے تیرے لیئے-
سوچ تو کچھ جی میں اے مشتاق ِ راہ مستقیم۔
مومنوں کے دل ہوں اور داماندہ امید و بیم
شدت آہ وبکا سے دل ہوں سینوں میں دو نیم۔
کیوں یہی لے دے کے تھا کیا مقصد ِ ذبح عظیم
خوف ھے قربانی ِ اعظم نظر سے گر نہ جائے
ابن حیدر کے لہو پر دیکھ پانی پھر نہ جائے
ساز عشرت ھے تجھے ذکر امام مشرقین۔
ڈھالتا ھے تیرے سکے بستگان ِ غم کا بین۔
تیری دار الضرب ھے اہل ِ عزا کا شور و شین۔
سرجھکا لے شرم سے اے تاجر ِ خونِ حسین (علیہ السلام)۔
#ImamHussain

No comments:
Post a Comment