ads 1

Tuesday, August 28, 2018

Baba Abdullah Shah Qasoor ( Baba Bullhay Shah Sarkar)

پیرو مرشد نے نظرِ کرم پھیرلی:

حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اندازِ بے رُخی اور اپنے خاصُ الخاص مرید کی بے قدری کا سن کر حضرت علامہ شاہ محمد عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے چہرہ مبارکہ پر ناراضی کےآثار نمودار ہوئے اور فرمایا: ہم نے آج سے بلھے شاہ کی کیاریوں سے اپنا پانی روک لیا ہے،
بس اتنا کہنےکی دیر تھی کہ حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےلئے قیامت برپا ہوگئی جونہی مرشد کریم نے اپنی نظر ِکرم پھیری آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دل پر چھریاں چل گئی،سر پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، دم بھر میں کیا سے کیا ہوگیا ، ہوش رہا نہ جوش،بہار خزاں میں بدل گئی، اجالا اندھیرے میں اور خوشی غم میں تبدیل ہو گئی۔
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آستانے کا انتظام مرید خاص حضرت سلطان احمد مستانہ کے سپرد فرمایا اور مرکز الاولیاء لاہور تشریف لے آئے بارگاہِ مرشد میں حاضری چاہی
مگریہ کیا ! آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو آنے سے روک دیا گیا کوئی شُنوائی نہ ہوئی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی جان پر بَن آئی،جدائی اور پشیمانی کی حالت نے تڑپا کے  رکھ دیا ،چین لُٹ گیا اور قرار مِٹ گیا،
مگرپیرو مرشد نے مرید صادق کوابھی آزمانا تھا آزمائش کی بھٹی میں تپا کر کندن بنانا مقصود تھا جبکہ مرید صادق کی بس یہی چاہت تھی کہ کسی طرح مرشد راضی ہوجائیں میری غلطی کو معاف کردیں اسی حالت میں دروازے پر کھڑے رہتے، دیارِمرشد کی خاک چھانتے رہتے نہ دن کا خیال رہا نہ رات کا، آنے والا ہر لمحہ جدائی کے زخم کو مزید گہرا کرتا جاتا۔
مرشد کیسے راضی ہوئے ؟
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہیہ بات جانتے تھے کہ دادا پیروارثِ فیضانِ محمدی حضرت علامہ سیِّد محمد رضا شاہ قادری شطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے عرس مبارک کا زمانہ قریب ہے اور پیرو مرشد کی عرس پر ضرور حاضری ہوتی ہے چنانچہ جب عرس مبارک شروع ہوا اور حضرت شاہ عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تشریف لائے تو حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے چہرے پر نقاب ڈال کر راہ میں کھڑے ہو گئے اورجھوم جھوم کر دیوانہ وار نہایت پرسوز آواز میں اشعار پڑھنے لگے
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آواز میں بَلا کا درد تھا اشعار میں کلیجے کو چھلنی کردینے والی پکار تھی جب مرشد کریم حضرت شاہ عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے مبارک کانوں میں سوزوگداز میں ڈوبی ہوئی آواز پہنچی اور حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اس درد ناک حالت میں دیکھا تو دل پسیج گیا مرید صادق کو پہچان تو گئے تھے لہذا دل جوئی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا
تم بلھے شاہ ہو؟ مرید صادق حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بس یہی آرزو تھی کہ کسی طرح مرشدِ کریم میری جانب توجہ فرمالیں چنانچہ بے اختیار پیرومرشد کے قدموں میں آگرے اور عرض کرنے لگے :
یا مرشدی ! میں بُلھا نئیں ،بھُلا آں یعنی ’’میں بُھولا ہوا ہوں‘‘
مرشد کریم نے مرید صادق کو دونوں ہاتھوں سے اٹھایا اور کمالِ عنایت و شفقت سے اپنےسینے سے لگا لیا پھر تو رحمت کا بند چشمہ دوبارہ پھوٹ نکلا، سوکھی کیاری کو پھر سے پانی مل گیا، حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زندگی گلِ گلزار ہوگئی ،لطف وسرور کے رنگ برنگے پھولوں سے مہک اٹھی اب مرید کامل فنا فی الشیخ کے مرتبے پر فائز ہوچکا تھا ۔
( سائیں بلھے شاہ ،ص۳۵ تا ۴۰ ملخصاً وغیرہ)
پیرا میں بُھل گئی آں، تیرے نال نہ گئی آں
تیر ے عشق نچا یا کر کے تھیا تھیا
بلھا شاہ نو سَدُو شاہ عنایت دے بوہے
جس نے مینو ں پوائے چولے ساوے تے سوہے
جاں میں ماری ہے اڈی مڑ پِیا ہے رہیا
تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا..

Salaahiyat Skills

اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں



فرض کریں آپ کے سامنے چائے کا ایک کپ رکھا ہوا ہے۔

اس میں شکر تو ڈال دی گئی ہے مگر ہلائی نہیں گئی۔

کیا چائے پیتے ہوئے آپ شکر کی مٹھاس محسوس کر پائیں گے؟

نہیں، ہرگز نہیں۔۔۔

اب ایسا کیجیئے کہ چائے کے کپ کو انتہائی غور سے دیکھنا شروع کر دیجیئے۔

دو منٹ کے بعد چائے کو دوبارہ چکھیئے۔

کیا ذائقہ میں کوئی تبدیلی نظر آئی؟

کیا کچھ مٹھاس کا احساس ہوا؟

شاید نہیں!!!

بلکہ اب تو چائے ٹھنڈی بھی ہونا شروع ہو چکی ہوگی۔

ابھی تک تو چائے کے میٹھا ہونے والی کوئی بات نظر نہیں آرہی۔

اب ایک آخری کوشش اس طرح کیجیئے کہ: اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر چائے کے کپ کے ارد گرد چکر لگائیے۔۔

اور ساتھ ساتھ اللہ سے دُعا بھی کرتے رہیئے کہ آپ کی چائے میٹھی ہوجائے۔

ارے یہ تو اچھا خاصا مذاق لگ رہا ہے۔۔۔

بلکہ شاید پاگل پن۔۔۔

اس طرح اور تو کچھ نہیں ہوا۔۔۔

بلکہ چائے بالکل ٹھنڈی ہو چکی ہے۔۔۔

میٹھا تو کیا ہونا تھا اس نے، پینے کے قابل بھی نہیں رہی اب۔۔۔

جی ہاں!! اور بالکل اسی طرح ہی ہماری زندگی ہے۔۔۔

چائے کے ایک کڑوی کسیلے کپ کی طرح۔۔۔

....... اور ہمیں اللہ کی طرف سے عطا کردہ صلاحیتیں شکر کی مانند ہیں۔۔۔

اور اِن صلاحیتوں نے آپکی زندگی میں مٹھاس بھرنےکیلئے اپنے آپ تو نہیں جاگ جانا۔۔۔

لاکھ ہاتھ اُٹھا کر دعائیں کر لیجیئے۔۔۔

حرکت تو دینا پڑے گی ان صلاحیتوں کو۔۔۔

اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار تو لانا ہی پڑے گا آپکو۔۔۔

لگن، محنت، جذبے اور خلوص کے ساتھ۔۔

تاکہ زندگی چائے کے ایک میٹھے اور پُر لطف کپ کی مانند ہو جائے۔۔۔

محمدقمرالدین نورانی جِلاء

Monday, August 27, 2018

Respect others

دوسروں کی قدر کرنا سیکھیئے

خاوند سارے دن کے کام سے تھکا ہارا گھر واپس لوٹا ۔ ۔ ۔

تو کیا دیکھتا ہے کہ اُس کے تینوں بچے گھر کے سامنے ۔ ۔ ۔

کل رات کے پہنے ہوئے کپڑوں میں ہی مٹی میں لت پت کھیل رہے ہیں۔

گھر کے پچھواڑے میں رکھا کوڑا دان بھرا ہوا اور مکھیوں کی آماجگاہ ہوا ہے۔

گھر کے صدر دروازے کے دونوں پٹ تو کھلے ہوئے تھے ہی،

مگر گھر کے اندر مچا ہوا اودھم اور بے ترتیبی کسی میدان جنگ کا منظر پیش کر رہی تھی۔

کمرے کی کُچھ لائٹیں ٹوٹ کر فرش پر بکھری پڑی تھیں تو قالین دیوار کے ساتھ گیا پڑا تھا۔

ٹیلیویژن اپنی پوری آواز کے ساتھ چل رہا تھا تو بچوں کے کھلونے فرش پر بکھرے ہوئے تھے اور کپڑوں کی مچی ہڑبونگ ایک علیحدہ کہانی سنا رہی تھی۔

کچن کا سنک بغیر دُھلی پلیٹوں سے اٹا ہوا تھا تو دسترخوان سے ابھی تک صبح کے ناشتے کے برتن اور بچی کُچھی اشیاء کو نہیں اُٹھایا گیا تھا۔

فریج کا دروازہ کھلا ہوا اور اُس میں رکھی اشیاء نیچے بکھری پڑی تھیں۔

ایسا منظر دیکھ کر خاوند کا دل ایک ہول سا کھا گیا۔ دل ہی دل میں دُعا مانگتا ہوا کہ اللہ کرے خیر ہو، سیڑھیوں میں بکھرے کپڑوں اور برتنوں کو پھاندتا اور کھلونوں سے بچتا بچاتا بیوی کو تلاش کرنے کیلئے اوپر کی طرف بھاگا۔ اوپر پہنچ کر کمرے کی طرف جاتے ہوئے راستے میں غسلخانے سے پانی باہر آتا دِکھائی دیا تو فوراً دروازہ کھول کر اندر نظر دوڑائی، باقی گھر کی طرح یہاں کی صورتحال بھی کُچھ مختلف نہیں تھی، تولئیے پانی سے بھیگے فرش پر پڑے تھے۔ باتھ ٹب صابن کے جھاگ اور پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا اور اُسی کا پانی ہی باہر جا رہا تھا۔ ٹشو پیپر مکمل طور پر پانی میں ڈوبے ہوئے تھے، ٹوتھ پیسٹ کو شیشے پر ملا ہوا تھا۔ خاوند نے یہ سب چھوڑ کر ایک بار پھر اندر کمرے کی طرف دوڑ لگائی۔ دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھولا تو انتہائی حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ اُسکی بیوی مزے سے بیڈ پر لیٹی ہوئی کسی کہانی کی کتاب کو پڑھ رہی تھی۔ خاوند کو دیکھتے ہی کتاب نیچے رکھ دی اور چہرے پر ایک مسکراہٹ لاتے ہوئے بولی؛ آپ آ گئے آفس سے، کیسا گُزرا آپکا دِن؟

خاوند نے بیوی کا التفات اور استقبال نظر انداز کرتے پوچھا؛ آج گھر میں کیا اودھم مچا پڑا ہے؟

بیوی نے ایک بار پھر مُسکرا کر خاوند کو دیکھا اور کہا؛ روزانہ کام سے واپس آ کر کیا آپ یہی نہیں کہا کرتے کہ میں گھر میں رہ کر کیا اور کونسا اہم کام کرتی ہوں؟

خاوند نے کہا؛ ہاں ایسا تو ہے، میں اکثر یہ سوال تُم سے کرتا رہتا ہوں۔

بیوی نے کہا؛ تو پھر دیکھ لیجیئے، آج میں نے وہ سب کُچھ ہی تو نہیں کیا جو روزانہ کیا کرتی تھی۔

پیغام

ضروری ہے کہ انسان دوسروں کی محنت اور اُن کے کیئے کاموں کی قدر اور احساس کرے کیونکہ زندگی کا توازن مشترکہ کوششوں سے قائم ہے۔ زندگی کچھ لینے اور کچھ دینے سے عبارت ہے۔ جس راحت اور آرام کی معراج پر آپ پہنچے ہوئے ہیں اُس میں دوسروں کے حصہ کو نظر انداز نا کیجیئے۔ ہمیشہ دوسروں کی محنت کا اعتراف کیجیئے اور بعض اوقات تو صرف آپکی حوصلہ افزائی اور اور قدر شناسی بھی دوسروں کو مہمیز کا کام دے جایا کرتی ہے۔ دوسروں کو اتنی تنگ نظری سے نا دیکھیئے۔

محمدقمرالدین نورانی جِلاء

Naatia Kalaam

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
تیری خوشبو، میری چادر
تیرے تیور، میرے زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
میری منزل، تیری آہٹ
میرا سدرہ، تیری چوکھٹ
تیری گاگر، میرا ساگر
تیرا صحرا، میرا پنگھٹ
میں ازل سے تیرا پیاسا
نہ ہو خالی میرا کاسہ
تیرے واری، ترا بالک
وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
۔
تیری مِدحت، میری بولی
تُو خزانہ، میں ہوں جھولی
تیرا سایہ، میری کایا
تیرا جھونکا، میری ڈولی
تیرا رستہ، میرا ہادی
تیری یادیں، میری وادی
تیرے ذرے، میرے دیپک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
تیرے دم سے دلِ بینا
کبھی فاراں، کبھی سینا
نہ ہو کیوں پھر تیری خاطر
میرا مرنا میرا جینا
یہ زمیں بھی ہو فلک سی
نظر آئے جو جھلک سی
تیرے دَر سے میری جاں تک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
میں ہوں قطرہ، تُو سمندر
میری دُنیا تیرے اندر
سگِ داتا میرا ناتا
نہ ولی ہوں، نہ قلندر
تیرے قدموں میں پڑے ہیں
میرے جیسے تو بڑے ہیں
کوئی تجھ سا نہیں بیشک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
میں ادھورا، تُو مکمل
میں شکستہ تُو مُسلسل
میں سُخن ور، تُو پیمبر
میرا مکتب، تیرا اِک پَل
تیری جُنبش، میرا خامہ
تیرا نقطہ، میرا نامہ
کیا تُو نے مجھے زِیرک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
میری سوچیں ہوں سوالی
میرا لہجہ ہو بِلالی ؓ
شبِ تِیرہ، کرے خیرہ
میرے دن بھی ہوں مثالی
تیرا مظہر ہو میرا فن
رہے اُجلا میرا دامن
نہ ہو مجھ میں کوئی کالک
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
۔
شاعر: مظفر وارثیؒ
#Madina #Muhammad #Naat #kalaam #muzaffarwarsi

Tution academy aur hun

sulook aur insaan